رسائی کے لنکس

اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کروانے والے جن قانون سازوں کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر سید مصطفیٰ کمال بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں الیکشن کمیشن نے اثاثوں کے گوشوارے جمع نا کروانے والے 26 قانون سازوں کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق ان قانون سازوں میں اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں کے رکن بھی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے تحت تمام قانون سازوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات کمیشن میں جمع کروائیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق 1100 سے زائد قانون سازوں نے 30 ستمبر تک اپنے اثاثوں سے متعلق گوشوارے جمع کرانے ہوتے ہیں جس کے بعد الیکشن کمیشن 15 اکتوبر کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔

تاہم ترجمان کے بقول عید الاضحٰی کی چھٹیوں کے باعث 22 اکتوبر کو ایک باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات جمع نا کروانے والے 26 قانون سازوں کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔

’’اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کو ایک خط بجھوا دیا گیا ہے کہ ان 26 قانون سازوں کو کام کرنے سے روک دیا جائے…. یہ سینیٹ اور اسمبلیوں کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، یہ قانون سازی بھی نہیں کر سکیں گے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق گوشوارے جمع کرانے کے قانون کا مقصد تمام قانون سازوں کو اس بات کا پابند بنانا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات سے الیکشن کمیشن کے ذریعے اپنے ووٹروں کو آگاہ کریں۔

’’اگر قانون ساز اپنے گوشواروں میں اثاثوں کی تفصیلات درست نہیں بتاتے اور ایسا ثابت ہو جائے تو عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت اُن کو تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے مطابق 26 قانون سازوں کی رکنیت اُس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ وہ اپنےاثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروا دیتے۔

جن قانون سازوں کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر سید مصطفیٰ کمال بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG