رسائی کے لنکس

لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کئی سطحوں پر کوششیں جاری ہیں: بلوچستان حکومت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اکبر حسین درانی کے بقول 2009ء سے اب تک صرف 194 لاپتا افراد میں سے 80 کا پتا چلایا جا چکا ہے جب کہ 43 افراد کے نام لاپتا افراد کے زمرے میں نہ آنے کے باعث فہرست سے خارج کر دیے گئے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں لاپتا افراد کا معاملہ ایک عرصے سے مقامی و بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس کے حل کے لیے حکومتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی طرف سے صوبے کے مختلف علاقوں سے لاپتا ہونے والے 989 افراد کی فہرست فراہم کی گئی تھی جسے تمام قومی اخبارات میں مشتہر کیا گیا۔

حکام کے بقول 2009ء سے اب تک صرف 194 افراد کے لواحقین نے اپنے گمشدہ لوگوں کے بارے میں درخواستیں دیں۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لاپتا افراد کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن اور صوبائی ٹاسک فورس کی مشترکہ کوششوں سے 194 میں سے 80 لاپتا افراد کا پتا چلایا جا چکا ہے جب کہ 43 افراد کے نام لاپتا افراد کے زمرے میں نہ آنے کے باعث فہرست سے خارج کر دیے گئے۔

"ہمارے پاس جو کیسز آتے ہیں اس کی تحقیقات کی جاتی ہیں کہ آیا یہ لاپتا افراد کے زمرے میں آتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔"

بلوچ قوم پرست جماعتوں اور دیگر تنظیموں کا دعویٰ رہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے 9000 سے زائد نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا جب کہ ان افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نامی تنظیم اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے نہ صرف کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد میں کیمپ لگاتی آئی ہے بلکہ اس کے رہنما ماما قدیر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل مارچ بھی کیا تھا۔

سیکرٹری داخلہ اکبر درانی کا کہنا تھا کہ یہ تعداد بالکل بے بنیاد ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی شواہد یا تفصیلات کبھی حکام کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے معاملے پر ہونے والے سرکاری اجلاسوں میں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے لوگ شریک ہوتے ہیں وہیں ان تنظیموں کے نمائندوں کو بھی بلایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے سوالات اور تحفظات سے حکام کو آگاہ کرنے کے علاوہ اجلاس کی کارروائی کی شفافیت کا جائزہ بھی لیں سکیں۔

ایک عرصے سے اس پسماندہ ترین صوبے میں لوگوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ بھی یہاں انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالیہ نشان اٹھاتا رہا ہے لیکن حکام کے بقول ماضی کی نسبت یہ صورتحال اب خاصی بہتر ہو چکی ہے۔

حکام کے بقول 2010ء سے اب تک 612 لاشیں مختلف حصوں سے برآمد ہوئیں جن میں سے 373 کی شناخت بلوچ اور 95 کی پشتون کی حیثیت سے ہوئی جب کہ 73 دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والی کی تھیں اور 71 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر درانی کہتے ہیں کہ جب بھی کہیں سے کوئی لاش برآمد ہوتی ہے تو اس بارے میں مکمل تحقیق کی جاتی ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے عہدیدار لاپتا افراد کے لواحقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گمشدہ افراد کے بارے میں پولیس رپورٹ اور دیگر مستند معلومات مقامی افسران کو مہیا کریں تاکہ اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG