رسائی کے لنکس

مزید مہلت کی حکومتی درخواست مسترد


چیف جسٹس افتخار محمد چودھری عدالت عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت کررہے ہیں(فائل فوٹو)

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری عدالت عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت کررہے ہیں(فائل فوٹو)

وفاقی حکومت نے قومی مصالحتی آرڈینیس یا این آر او کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی اپیل کی سماعت میں مزید مہلت کی درخواست کر رکھی تھی جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ مقدمے میں وفاق کے وکیل کمال اظفر کو حکومت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے اس لیے اب وہ قانوناََ اس مقدمے کی پیروی نہیں کرسکتے۔

لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو ہونے والی سماعت میں حکومت کی اس درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ حکومت پہلے بھی تاخیری حربے استعمال کر چکی ہے ۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے ا ستفسار کیا کہ حکومت عدالتوں کے ساتھ مذاق کیو ں کر رہی اور عدالت کو نیچا دکھانے کی روایت اچھی نہیں ۔

انھوں نے کہا کہ حکومتی وکیل کمال اظفر بائیس ستمبر سے دس اکتوبر تک چھٹیوں پر تھے اور اس دوران گزشتہ ہفتے حکومت نے انھیں مشیر مقرر کرنے کا حکم نامہ جاری کردیاجبکہ ایک روز قبل سرکاری دفاتر میں چھٹی کے باوجود سرکاری وکیل کووفاقی وزیر کے برابر عہدہ دے کر انھیں قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے وزیراعظم کا مشیر مقرر کردیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت کمال اظفر کو مشیر مقرر کرنے کا نوٹس واپس لے کیونکہ ان کے بقول تیرہ سے پندرہ اکتوبر تک اگر وہ حکومت کے ساتھ نہیں رہیں گے تو فرق نہیں پڑے گا۔

حکومت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ تیر ہ اکتوبر کو ہی این آر او کے فیصلے سے متعلق وفاق کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کرے گی جبکہ اُسی روز این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت بھی ہوگی۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروائے گئے این آراو کے متنازع قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لگ بھگ آٹھ ہزار افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات معاف کردیے گئے تھے۔ اس معافی کا فائدہ صدر آصف علی زرداری اور ان کے کئی اہم مشیروں کو بھی ہوا لیکن گذشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کردیا اور اس کے تحت معاف کیے گئے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کیا تھا ہم اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت عدالت کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے گریزاں ہے۔

XS
SM
MD
LG