رسائی کے لنکس

مظاہرے میں شریک افراد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن میں بھارت کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقدس کتاب کی بے ادبی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

بھارت کی ریاست پنجاب میں حال ہی میں سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ کی مبینہ بے ادبی کے خلاف منگل کو پاکستانی شہر پشاور میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔

رواں ماہ بھارتی پنجاب کے ضلع ترن تارن میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے ادبی کی اطلاعات سامنے آئیں تھیں جس کے بعد خود بھارت کے مختلف علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے۔

پشاور میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے پریس کلب کے سامنے علامتی دھرنا دیا اور نعرے بازی کی۔

مظاہرے میں شریک افراد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن میں بھارت کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقدس کتاب کی بے ادبی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

مظاہرے میں شریک سکھ برادری کے نمائندے صاحب سنگھ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھارت میں سکھوں کی مقدس کتاب کے بے ادبی کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

’’پورے پاکستان میں مظاہرے ہو رہے ہیں، یہ سلسلہ ایک ہفتے سے شروع ہے۔ یہ احتجاج خیبر پختونخواہ میں رہنے والے سکھوں کی طرف سے تھا۔ ہم اپنا مطالبہ جاری رکھیں گے۔‘‘

بھارت میں ہونے والے ایسے مظاہروں کے بعد بعض علاقوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی۔

پاکستان کے مختلف علاقوں بشمول صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکھوں کی ایک قابل ذکر تعداد آباد ہے۔

پشاور میں احتجاج سے قبل کراچی میں بھی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سکھوں کے اہم مقدس مقامات ہیں جن میں’پنجا صاحب‘ اور ’ننکانہ صاحب‘ شامل ہیں۔

سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے یوم پیدائش کے موقع پر بھی ہر سال بھارت سمیت دنیا کے مختلف ملکوں سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG