رسائی کے لنکس

سوئس حکام کے نام خط کا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش


پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)

پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمے کی بحالی کے لیےحکومت کی جانب سے سوئس حکام کے نام خط کا مسودہ وفاقی وزیر قانون نے منگل کو سپریم کورٹ میں پیش کردیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے پانچ رکنی بینچ نے باہمی مشاورت کے بعد مقدمے سماعت بدھ 26 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالت عظمٰی کو گزشتہ ہفتے آگاہ کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے مئی 2008ء میں سو ئس حکام کو بھیجا گیا وہ خط واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سوئٹزرلینڈ میں مسٹر زرداری کے خلاف دائر بدعنوانی کے مقدمات واپس لے لیا گئے تھے۔

سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے والے مجوزہ خط کا متنن واضع نہیں البتہ وفاقی وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے این آر او عملدرآمد مقدمے کی گزشتہ ہفتے ہونے والی سماعت میں توقع ظاہر کی تھی کہ حکومت عدالت کو 2 اکتوبر تک آگاہ کر دے گی کہ خط سوئس حکام کو موصول ہوچکا ہے۔

سوئس حکام کو مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھنے کا معاملہ گزشتہ تین برسوں سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان تناؤ کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔

یہ مقدمہ 1990 کی دہائی میں اُس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے قائم کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مسٹر زرداری اور اُن کی مقتول اہلیہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں بدعنوانی کے ذریعے حاصل کیے گئے لاکھوں ڈالر سوئس بینکوں میں منتقل کیے تھے۔

لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے ملک میں سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے کے نام پر 2007ء میں این آر او کے نام سے ایک متنازع قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت ہزاروں افراد بشمول مس بھٹو اور مسٹر زرداری کے خلاف اندرون ملک اور پاکستان سے باہر قائم بدعنوانی کے مقدمات ختم کردیے گئے۔

لیکن سپریم کورٹ نے دسمبر 2009ء میں این آر او کو کالعدم قرار دے کر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو صدر زرداری سمیت تمام افراد کے خلاف ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ جب تک مسٹر زرداری ملک کے صدر ہیں آئین اُن کے خلاف فوجداری مقدمات میں کارروائی شروع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے انکار پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سپریم کورٹ پہلے ہی گھر واپس بھیج چکی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG