رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: حملے میں انسداد پولیو ٹیم کا رکن ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہفتہ کی صبح خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے غنڈی میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے غالب خان کو شدید زخمی کر دیا اور اُنھیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

پاکستان کے شمال مغریی صوبہ خیبر پختو نخواہ کے دارلحکومت پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم مسلح افراد نے انسداد پولیو ٹیم سے وابستہ غالب خان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

قبائلی انتظامیہ میں شامل عہدیداروں نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے غنڈی میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کےغالب خان کو شدید زخمی کر دیا اور اُنھیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

اطلاعات کے مطابق حملے سے قبل غالب خان کو شدت پسندوں کی طرف سے دھمکی بھی دی گئی تھی کہ وہ انسداد پولیو مہم میں حصہ نا لیں۔

رواں ہفتے بدھ کو صوبے میں انسداد پولیو مہم کا آغاز کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شدت پسندوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سے تعاون کریں اور انسداد پولیو کی مہم میں شامل افراد کو نشانہ نا بنائیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پولیو وائرس پر قابو نا پایا گیا تو دوسرے ممالک میں روزگار کے حصول کے خواہمشند افراد بیرون ملک نہیں جا سکیں گے کیوں کہ کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہے گا کہ وہاں انسانی جسم کا اپاہج کر دینے والا یہ وائرس منتقل ہو۔

تحریک انصاف کے چیئرمین کو پولیو وائرس کے خلاف مہم چلانے پر اُنھیں بھی بعض شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں ملی تھیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران انسداد پولیو کی ٹیموں پر متعدد جان لیوا حملے ہو چکے ہیں جن میں ان کی حفاظت پر مامور متعدد پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

رواں سال پاکستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے 72 بچوں میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ہے

نائیجیریا اور افغانستان کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والے پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک خاص طور پر شام میں حال ہی میں رپورٹ ہونے والے پولیو وائرس کا تعلق بھی پاکستان میں موجود وائرس سے بتایا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG