رسائی کے لنکس

ضمنی انتخابات کے التوا پر تحفظات


ضمنی انتخابات کے التوا پر تحفظات

ضمنی انتخابات کے التوا پر تحفظات

پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور غیر جانبدار مبصرین نے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مجموعی طور پر آٹھ خالی نشتوں پر 20 فروری کو ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اکثر نشستیں اُن سیاست دانوں کے پاس تھیں جوعمران خان کی جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ میں شمولیت کے بعد پارلیمان کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے۔

مگر عدالت عظمٰی نے گزشتہ ہفتے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان کے انعقاد کو رائے دہندگان کی نئی اور مصدقہ فہرستوں کی تیاری کا عمل مکمل ہونے سے مشروط کر دیا، جس کے لیے عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو 23 فروری کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

سپریم کورٹ میں اس حوالے سے دائر مقدمے کی ایک سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ نئی فہرستوں کی تیاری کا کام مئی سے پہلے مکمل کرنا ممکن نہیں ہوگا لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ان کے اس موقف اور مزید مہلت کی درخواست کو دو مرتبہ مسترد کرچکے ہیں۔

چیف جسٹس کے بقول اگر ملک میں آئندہ انتخابات غیر مصدقہ اور بوگس فہرستوں پر کرائے گئے تو پاکستان افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔

تاہم پاکستان میں جمہوری عمل پر نظر رکھنی والی غیر سرکاری تنظیموں اور بعض بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ اخباری اداریوں میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے خیال میں 2008ء کے عام انتخابات بھی موجود فہرستوں کی بنیاد پر منعقد کرائے گئے تھے اور آئین الیکشن کمیشن کو خالی ہونے والی نشتوں پر دو ماہ کے اندر ضمنی انتخاب کرانے کا بھی پابند بناتا ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایک خود مختار الیکشن کمیشن اور انتخابی قوانین میں پائے جانے والی خامیوں سے متعلق امور اورعدالت عظمٰی کی طرف سے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرنے کے فیصلے کو آئندہ ماہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اٹھائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی ہے اور توقع ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں بھی اس سلسلے میں حکومت کی معاونت کریں گی۔

’’الیکشن کمیشن کے پاس نامکمل ووٹر لسٹس کی آڑ میں ضمنی انتخابات کو ملتوی کیا گیا ہے، تو اگلے ہفتے پارلیمنٹ کا اس حوالے سے اجلاس بلانے کے لیے حکومت حزب اختلاف سے مشاورت میں مصروف ہے تاکہ ان کے ساتھ مل بیٹھ کر الیکشن کمیشن کی تشکیل سے متعلق قانونی معاملات کو حل کریں اور بالآخر ملتوی کیے گئے ضمنی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔‘‘

حزب اختلاف کی مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ نے بوگس فہرستوں پر ضمنی انتخابات کو رکوانے کے عدالت عظمٰی کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے لیکن انھوں نے بھی اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ فروری کے اوائل میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں یہ معاملہ طے پا جائے گا۔

’’پارلیمنٹ کا اجلاس بھی فروری کے پہلے ہفتے میں ہو جائے گا تو اس میں یہ معاملہ (طے) کر لیا جائے گا، لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہماری ووٹر لسٹیں ٹھیک نہیں ہیں۔‘‘

ملک میں عام انتخابات 2013ء میں متوقع ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دائر بعض مقدمات کے پیش نظر بعض سیاسی مبصرین قبل ازوقت انتخابات کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس حوالے سے مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیں۔

لیکن وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان مطالبات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے۔

’’فرض کریں الیکشن کے بعد جو جماعت حکومت میں نہیں ہو گی وہ مطالبہ کر دے کہ نئے الیکشن کرائے جائیں، پھر آپ کیا کریں گے؟ حزب اختلاف کا کردار حکومت کو کم تر دیکھانا ہے جب کہ حکومت کا کام عالی ظرفی کا مظاہرہ ہے۔‘‘

بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سپریم کورٹ ضمنی انتخابات کو نئی انتخابی فہرستوں کی تیاری سے مشروط کرسکتی ہے تو یہ عمل مکمل نہ ہونے تک اس کی جانب سے قبل ازوقت انتخابات کی مخالفت بھی خارج ازامکان نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG