رسائی کے لنکس

پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورت حال پر تشویش: رپورٹ


فائل فوٹو

بین الاقوامی مذہبی آزادی پر نظر رکھنے والے امریکی کمیشن نے ایک مرتبہ پھر محکمہ خارجہ کو سفارش کی ہے کہ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جن کے بارے میں خصوصی تشویش پائی جاتی ہے اور جہاں مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں یا ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے تمام مذہبی برادریوں کو ملک میں مساوی حقوق حاصل ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین بشیر محمود ورک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مذہبی آزادی کے منافی کام کرنے والے انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

’’حکومت کم ازکم وہ مجرم جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں یا ظلم کرتے ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتی ہے ۔۔۔۔ بدقسمتی سے ایک دور آیا جس میں مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسایا گیا اور مذہب کے نام پر حکومت کرنے کی کوشش بھی کی گئی اس کے اثرات ہیں لیکن بہت زیادہ حد تک حکومت چوکنا ہو چکی ہے اب صرف افرادی سطح پر لوگ یہ حرکت کرتے ہیں لیکن ان کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔‘‘

جماعت احمدیہ کے مرکزی ترجمان سلیم الدین کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی متاثر ہوئی ہے۔

’’بحیثت برداری، جماعت احمدیہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں اس لیے بہر حال ہم یہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کی کسی بھی فورم پر دنیا میں سبکی ہو۔۔۔ لیکن دوسری طرف جو مذہبی آزادی کا ایک پہلو ہے اس میں بہر حال احمدیہ برادری پاکستان میں متاثر ہو رہی ہے اس کی وجہ سے پاکستان میں بنائے گئے حکومتی قوانین ہیں جو امتیازی بھی ہیں اور خاص طور پر ہماری برادری کو ہدف بنا کر بنائے گے. تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قوانین ختم ہوں اور جو مذہبی آزاد ی جو ہر کسی حق ہے وہ پاکستان میں حاصل ہونی چاہیے۔‘‘

رکن قومی اسمبلی رمیشن کمار کا تعلق حکمران جماعت سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ ملک میں بعض انتہا پسند عناصر کی سرگرمیوں سے پاکستان کا عالمی سطح پر تشخص خراب ہو رہا ہے۔

’’پاکستان کے اندر جو پانچ یا چھ فیصد غیر مسلم برادری ہے اور یہاں ایسی بات نہیں ہے کہ یہاں مذہبی آزادی نہیں ہے۔۔۔ لیکن یہاں پر وہ مذہبی عنصر پانچ فیصد موجود ہے جو پاکستان کے تشخص کو خراب کر رہا ہے اور ان کی وجہ سے آج سندھ حکومت کا جبری تبدیلی مذہب (کے خلاف) بل واپس چلا گیا کیوں واپس ہوا وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ یہاں پر ہے۔ اگر ہندو میرج بل منظور کروایا تو وہاں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے اور ان چیزوں کو (روکنے میں ) اگر بین الاقوامی شرکت ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

پاکستانی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں آباد تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG