رسائی کے لنکس

اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے کے دوران وہ اپنے چینی ہم منصب ژی جنپنگ، وزیراعظم لی کیچیانگ اور دیگر اعلیٰ چینی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین آئندہ ہفتے چین کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سرکاری غیر ملکی دورہ ہے۔

منگل کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ اس دوران وہ اپنے چینی ہم منصب ژی جنپنگ، وزیراعظم لی کیچیانگ اور دیگر اعلیٰ چینی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

بیان کے مطابق یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان فروغ پاتے دوطرفہ تعلقات میں ایک اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیاسی امور کےتجزیہ نگار پروفیسر حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس دورے کی اہمیت پر کچھ یوں تبصرہ کیا۔

’’پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ صدر اور وزیراعظم عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرتے ہیں اور اس دورے کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے پاکستان اس وقت معاشی تعاون کے حصول کی کوشش کر رہا ہے اوراس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی جو تعاون جاری ہے اس دورے کے دوران اسی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی لیکن اس میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہی ہے۔ ''

پاکستان اور چین کے درمیان حالیہ برسوں میں اقتصادی تعلقات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے چین کے دورے میں اقتصادی راہداری کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کام تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

نواز شریف نے بھی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے کے لیے چین کا ہی انتخاب کیا تھا۔

صدر ممنون حسین کے دورہ چین میں ایک پاکستانی وفد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور اصلاحات احسن اقبال کی سربراہی میں چینی عہدیداروں سے ملاقات کرے گا جس میں اقتصادی راہداری کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 18 ارب ڈالر کے اس طویل المدت منصوبے کے تحت چین کے شہر کاشغر سے پاکستانی علاقے گوادر کے درمیان ریل اور سڑک سے رابطہ ہوگا اور اس پر مختلف حصوں پر اقتصادی اور صنعتی شہر بھی آباد کیے جائیں گے۔ پروفیسر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان کی وجہ سے اس منصوبے پر مستقبل قریب میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے۔

''معاشی راہداری کا منصوبہ ایک خواب ہے اور مستقبل قریب میں اس پر کسی عملی اقدام کا امکان کم ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے اور جن علاقوں سے اس اقتصادی راہدری کو گزرنا ہے وہا ں اور طرح کے مسائل ہیں اس لیے اس پر تو بات ہو سکتی ہے کہ اس منصوبے کو آگے کیسے بڑھایا جاسکتا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس پر کسی عملی اقدام کا امکان کم ہے۔"

چین پاکستان میں توانائی اور دفاع سمیت متعدد شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے جب کہ اس ملک کی 120 کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 12 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور پاکستان کی برآمدات میں 48 فیصد تک اضافہ بھی ہوا ہے۔

پنجاب میں کندیاں کے مقام پر چین کے تعاون سے دو جوہری بجلی گھر کام کر رہے ہیں جہاں سے تقریباً 650 میگاواٹ بجلی حاصل ہورہی ہے جب کہ حکام کے مطابق مزید دو جوہری بجلی گھروں پر بھی کام جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG