رسائی کے لنکس

محمود عباس کی طرف سے جاری ہونے والا یہ حیران کُن اعلان اسرائیل کے ساتھ امریکی توسط سے جاری امن مذاکرات کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کوئی فوری بیان سامنے نہیں آیا

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ پھر سے اقوام متحدہ کی طرف سے منظوری کے حصول کی فوری کوشش شروع کریں گے، اور یہ کہ اُنھوں نے ایک درخواست پر دستخط کردیے ہیں جس کا مقصد اقوام متحدہ کے 15 اداروں اور ضابطوں میں شمولیت اختیار کرنا ہے۔

منگل کی شام گئے، عباس کی طرف سے جاری ہونے والا یہ حیران کُن اعلان اسرائیل کے ساتھ امریکی توسط سے جاری امن مذاکرات کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کوئی فوری بیان سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل، بات چیت میں شریک قریبی اہل کاروں کا کہنا تھا کہ ایک سمجھوتے کی صورت سامنے آنے لگی ہے، جس کے باعث بات چیت کو 2015ء تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس کے بدلے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں قید ایک امریکی شہری کو رہا کیا جائے گا۔

سمجھوتے کے تحت سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو جزوی طور پر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کے دِن دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوسرے مرحلے میں، ایک مسودے کی تفصیل پر اتفاق کیا۔

کیری نے فلسطینی مذاکرات کاروں سے بھی ملاقات کی۔ وہ بدھ کے روز مزید بات چیت کے لیے اسرائیل اور رملہ جائیں گے۔

مجوزہ سمجھوتے کے تحت، جوناتھن پولارڈ کو ’پاس اور‘ کے یہودی تہوار سے قبل رہا کیا جائے گا، جس کا اپریل کے وسط میں آغاز ہوتا ہے۔ پولارڈ امریکی بحریہ میں ایک سویلین انٹیلی جنس تجزیہ کار کے طور پر فرائض انجام دیا کرتے تھے۔

وہ یہودی نژاد امریکی ہیں، جنھیں 1995ء میں، جب وہ قید تھے، اسرائیلی شہریت دی گئی تھی۔ پولارڈ نے اپنے اسرائیلی کرتا دھرتا کو ہزاروں کی تعداد میں خفیہ دستاویزات حوالے کی تھیں۔ اُنھیں 1985ء میں گرفتار کیا گیا تھا، جس سے قبل اُنھوں نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے میں پناہ لینے کی ناکام کوشش کی تھی۔

پولارڈ نے ’کلاسی فائیڈ‘ دستاویزات اسرائیل کے حوالے کرنے سے متعلق اقرار جرم کیا، جس پر اُنھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سے قبل، امریکی صدر براک اوباما اور اُن کے پیش رو رہنماؤں نے اُنھیں رہا کرنے سے انکار کیا تھا، باوجود یہ کہ اسرائیلی لیڈراُن کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مسٹر اوباما نے ابھی تک پولارڈ کی رہائی سے متعلق فیصلہ نہیں کیا۔

اس کے بدلے میں اسرائیل طویل مدت سے قید فلسطینیوں کے چوتھے گروہ کو رہا کرے گا، جس میں وہ 14 اسرائیلی عرب بھی شامل ہیں جن کا معاملہ اسرائیل میں انتہائی متنازع ہے، ساتھ ہی دیگر 400فلسطینی جنھیں اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کے الزام پر ابھی سزا نہیں سنائی گئی۔

اسرائیل مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر سے متعلق ’تحمل پر مبنی پالیسی‘ اپنانے سے بھی اتفاق کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اِس عارضی منع نامے کا اطلاق مشرقی یروشلم، نجی تعمیرات یا سرکاری ادارون کی عمارات کی تعمیر پر نہیں ہوگا۔

فلسطینی رہنما سامنے آنے والی تجاویز پر زیادہ خوش دکھائی نہیں دیتے، جن کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے مطالبوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں، جن میں تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اپنی پسند کے 1000 قیدیوں کی رہائی کا حصول شامل تھا۔
XS
SM
MD
LG