رسائی کے لنکس

کوئٹہ: انسداد پولیو مرکز پر مامور پولیس اہلکار فائرنگ سے ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار زین اللہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جب کہ ایک راہ گیر گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں انسداد پولیو سنٹر کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

یہ واقعہ بدھ کو کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد میں پیش آیا جہاں مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار زین اللہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جب کہ یہاں سے گزرنے والا ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے جب کہ پولیس کی اضافی نفری نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے لیکن گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو شدت پسند نشانہ بناتے آئے ہیں۔

شدت پسند اس مہم کو مغربی پروپیگنڈا اور غیر اسلامی تصور کرتے ہیں جس کی نہ صرف محکمہ صحت بلکہ جید مذہبی علما بھی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا کسی بھی طرح غیر شرعی نہیں۔

بلوچستان کے چیف سیکرٹری کی زیر صدارت بدھ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انسداد پولیو مہم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہم کے دوران سکیورٹی کو مزید بڑھایا جائے گا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں لیکن ان ملکوں میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد پاکستان سے کئی گنا کم ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 300 سے زائد تھی۔

طبی ماہرین یہ کہہ چکے ہیں کہ اس موذی وائرس کے خاتمے کے لیے انسداد پولیو مہم کو تواتر سے جاری رکھنا نہایت اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG