رسائی کے لنکس

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ حکومت اُن خاندانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کرے گی جو مغویوں کی رہائی کے لیے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، یا اپنے اہل خانہ کی رہائی کے حصول کے لیے تاوان کی ادائگی کرتے ہیں

صدر براک اوباما نے مغویوں کی رہائی کے لیے اغوا کنندگان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے حوالے سے امریکی پالیسی میں وسیع تر اصلاح کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ساتھ ہی، اُنھوں نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ بیرون ملک دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کو بازیاب کرانے کے لیے، حکومت کے پاس دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے کلمات میں، مسٹر اوباما نے کہا کہ حکومت اُن خاندانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کرے گی جو مغویوں کی رہائی کے لیے اغوا کنندگان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، یا اپنے اہل خانہ کی رہائی کے حصول کے لیے تاوان کی ادائگی کرتے ہیں۔

صدر اوباما نے یہ بات مغویوں کے متعدد متاثرہ خاندانوں کے ہمراہ اس حوالے سے ان رہنما اصولوں کا جائزہ لیا، جس دوران صدر نے امریکی پالیسی کو نرم کرنے کا عندیہ دیا۔

یہ جائزہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں پر ہونے والی سخت تنقید کے تناظر میں کیا گیا، جس میں بعض مغویوں کے رشتہ داروں نے شکایت کی تھی کہ تاوان کی ادائگی کے لئے فنڈ جمع کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات سے مغویوں کے اہل خانہ کے ساتھ اشتراک کار میں اضافہ ہوگا، تاکہ اغوا کنندگان سے رابطہ کرکے ان مغویوں کی رہائی اور ان کے گھروں کو واپسی کو ممکن بنایا جاسکے۔

لیکن، وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش آرنسٹ نے منگل کو رپورٹرز کو بتایا کہ صدر اغوا کنندگان کو کوئی رعایت دینےکی پالیسی میں تبدیلی نہیں کریں گے۔

گذشتہ برس مشرق وسطیٰ میں کئی امریکی مغویوں کو قتل کردیا گیا، جن میں سے چند کے سر قلم کرنے کی ویڈیو داعش کے جنگجوؤں نے جاری بھی کئے تھے۔

چند یورپی ممالک کے مقابلے میں امریکہ اغوا کنندگان کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں اور سختی سے تاوان کی ادائگی کے خلاف پالیسی پر کاربند ہے، تاکہ تاوان کی رقم اغوا کی مزید حوصلہ افزائی کا اور مسلح جنگجوؤں کے وسائل میں اضافے کا باعث نہ بنے۔

لیکن، گذشتہ برس گوانتانامو کے امریکی بحری اڈے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کے بدلے ایک امریکی فوجی سارجنٹ، برگڈہل کو رہائی دلائی گئی تھی جو گذشتہ پانچ برسوں سے طالبان کے قبضے میں تھے۔

XS
SM
MD
LG