رسائی کے لنکس

ویٹیکن کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ فرانسس نے ذاتی طور پر دونوں ملکوں کے وفود کے مابین بات چیت کا بندوبست کیا تھا۔

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے اتوار کو ویٹیکن کا دورہ کیا جس کا مقصد امریکہ کے ساتھ پانچ دہائیوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کو کم کروانے میں پوپ فرانسس کی کوششوں کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کرنا تھا۔

کاسترو اور پوپ کے درمیان ایک گھنٹہ ملاقات جاری رہے جس میں دونوں ہسپانوی زبان میں محو گفتگو رہے۔

رومن کیتھولک کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے ہوانا اور واشگنٹن کے درمیان خفیہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جس کی بنا پر گزشتہ دسمبر میں دونوں ملکوں نے اعلان کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دیں گے۔

ویٹیکن کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ فرانسس نے ذاتی طور پر دونوں ملکوں کے وفود کے مابین بات چیت کا بندوبست کیا۔

ویٹیکن سے روانہ ہوتے ہوئے کاسترو نے کہا کہ وہ "پوپ نے جو کچھ کیا اس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔" بعد ازاں انھوں نے پوپ فرانسس کی "فہم و فراست، عجز اور دیگر خصوصیات کی بھی تعریف کی۔

پوپ نے کاسترو کو ایک تمغہ بھی عطا کیا جو غریبوں کا خیال رکھنے والے سینٹ مارٹن آف ٹوئرز سے منسوب ہے۔ کاسترو کا کہنا تھا کہ وہ ستمبر میں امریکہ کا دورہ کرنے سے پہلے ان تمام مذہبی تقاریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں جن کی سربراہی پوپ کریں گے۔

کیوبا کے صدر ویٹیکن آمد سے قبل روس گئے تھے جہاں وہ دوسری جنگ عظیم میں کامیابی کے لیے ماسکو میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG