رسائی کے لنکس

دہشت گردی کی روک تھام، خواتین کو آگے آنا ہو گا


انسانی حقوق کی کارکن کشور سلطانہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خاتون بطور ماں اپنے بچوں پر زیادہ بہتر انداز میں نظر رکھ سکتی ہیں۔

پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے، جس میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ملک میں امن و استحکام اور انسداد دہشت گردی میں خواتین کے کردار سے متعلق پیر کو اسلام آباد میں ’انسان‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر اہتمام تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں قانون سازوں نے بھی شرکت کی۔

اس مباحثے میں خواتین اور قانون سازوں کی طرف سے یہ تجاویز سامنے آئیں کہ دیرپا امن کے قیام اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں خواتین کو کردار ادا کرنے کا زیادہ موقع دیا جائے۔

تقریب میں شریک کشور سلطانہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خاتون بطور ماں اپنے بچوں پر زیادہ بہتر انداز میں نظر رکھ سکتی ہیں۔

’’ماؤں کو پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں کیا تبدیلی آ رہی ہے، بچہ کس طرح جا رہا ہے۔ کیا اُس میں پرتشدد رویہ بڑھ رہا ہے، کیا وہ جلدی غصے میں آ جاتا ہے وہ کن دوستوں کے ساتھ اُٹھتا بیٹھا تھا۔۔۔ تو ماں بچے کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے روک سکتی ہے۔‘‘

کشور سلطانہ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں خواتین کو مزید کردار دینے کی ضرورت ہے۔

تقریب میں شریک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے ’وی او اے‘ سے گفتگو میں کہا کہ انتہا پسندی کی جانب راغب افراد کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں میں بھی خواتین موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے جہاں آپریشنز اور کارروائیاں جاری ہیں وہیں حالیہ برسوں میں مختلف حلقوں کی طرف سے یہ مطالبات بھی سامنے آئے ہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک متبادل بیانیے کی ضرورت ہے تاکہ خاص طور پر نوجوان نسل کو اس جانب مائل ہونے سے روکا جا سکے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG