رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ میں طلبی: خط ،انکار یامہلت؟


سپریم کورٹ میں طلبی: خط ،انکار یامہلت؟

سپریم کورٹ میں طلبی: خط ،انکار یامہلت؟

وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن عدالت عظمیٰ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ اس کیس میں وزیراعظم کو نوٹس کا اجرا بنتا تھا یا نہیں

ملکی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے بعد یوسف رضا گیلانی تیسرے وزیراعظم ہیں جو سپریم کورٹ میں طلب کیے گئے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو پر توقتل کا مقدمہ تھا،مگر نواز شریف توہینِ عدالت کے الزام میں طلب کیے گئے تھے اورچودہ سال چار ماہ اور ایک دن بعد اسی الزام میں جمعرات 19جنوری کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پیش ہو رہے ہیں ۔

سولہ جنوری کو این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کو طلب کرنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد سے ہی اس اہم معاملے پر معروف آئینی ماہرین کی آرا ٴ سامنے آ رہی ہیں، جن کا بغور تجزیہ کیا جائے تووزیراعظم کے پاس مندرجہ ذیل راستے ہوسکتے ہیں:

۔اول وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن عدالت عظمیٰ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ اس کیس میں وزیراعظم کو نوٹس کا اجرا بنتا تھا یا نہیں ، صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے ، اس لئے خط نہیں لکھے جا سکتے جس کے بعد عدالت فیصلہ دے گی کہ اعتزاز احسن کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں اور اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔

۔ اگر وزیراعظم عدالت عظمیٰ سے معافی مانگ لیتے ہیں اور یقین دہانی کرا دیتے ہیں کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے سوئس مقدمات کھولنے کیلئے سوئس حکومت کو خط لکھیں گے تو معاملہ آسانی سے سنبھل سکتا ہے ۔ معاملے کو آگے نہ بڑھنے سے روکنے کے لئے وزیراعظم کے پاس دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جمعرات کی سماعت میں وہ مہلت طلب کریں اور اس کے فوری بعد صدر کوحاصل استثنیٰ سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کر لیں ۔

لیکن، پیپلزپارٹی قیادت کے بیانات سے تاثر مل رہا ہے کہ پیپلز پارٹی سوئس عدالتوں کو خط لکھنے پر تیار نہیں۔لہذاوزیراعظم بھی کل خط لکھنے سے صاف انکار کر سکتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ایچ کے تحت ان پر غیر مجرمانہ یا آرٹیکل تریسٹھ جی کے تحت مجرمانہ مقدمہ چلایا جائے گا ۔

قانونی ماہرین کے مطابق، مجرمانہ مقدمے میں وزیراعظم کیلئے بہت سی سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اس قانون کے تحت توہین کرنے والا شخص پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو انہیں وزارت عظمیٰ سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ معافی نہ مانگی تو وزیراعظم کو کم از کم ایک گھنٹہ کمرہ عدالت میں موجود رہنے سے چھ ماہ تک قید بھگتنا ہوگی۔ دوسری صورت میں جرمانے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ یا وزیراعظم کو عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے قید اور جرمانہ دونوں برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔

اس سے قبل ،پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی 17 نومبر سنہ1997 میں توہین عدالت کے نوٹس پر عدالت عظمیٰ میں پیش ہو چکے ہیں ۔ نواز شریف کو نوٹس جاری ہونے کی وجہ یہ تھی کہ 1997ء میں اس وقت کے جسٹس سید سجاد علی شاہ نے 5سینئر ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی تجویز دی تھی۔ تاہم، نواز شریف کی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعداد17سے کم کرکے 12 کردی تھی ۔

نواز شریف توہین عدالت کےنوٹس پرعدالت میں پیش ہوئےاورمعافی بھی مانگی مگراسی کیس کی سماعت کے دوران ن لیگ کے رہنماؤں اور کارکنان نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا۔ بعد میں، سید سجاد علی شاہ کو اس منصب سے دستبردار ہونا پڑا ۔

سپریم کورٹ کےحملہ کیس میں لیگی رہنماؤں اختررسول،میاں منیر، اختر محمود، چوہدری تنویر، شہباز گوشی اور دیگرکوسزائیں بھی ہوئیں ۔

XS
SM
MD
LG