رسائی کے لنکس

جنوبی بحیرہ چین میں جاپانی مداخلت کا سخت جواب دیں گے، چین


جنوبی بحیرہ چین میں چینن کےسرحدی محافظ گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

چینی عہدے داروں نے یہ تبصرے خبررساں ادارے روئیٹرز کی اس رپورٹ کے بعد کیے کہ جاپان جنوبی بحیرہ چین میں اپنا سب سے بڑا جنگی جہاز بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ اگر جاپان نے جنوبی بحیرہ چین میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

چینی عہدے داروں نے یہ تبصرے خبررساں ادارے روئیٹرز کی اس رپورٹ کے بعد کیے کہ جاپان جنوبی بحیرہ چین میں اپنا سب سے بڑا جنگی جہاز بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

جاپان کا ہیلی کاپٹر بردار بحری جہاز اپنے اس سفر میں میں سنگاپور، انڈونیشیا، فلپائن اور سری لنکا میں لنگر انداز ہوتا ہوا بحرہند میں امریکی اور بھارتی بحری مشقوں میں شامل ہوجائے گا جو اس سال جولائی میں مالابار کے قریب ہو رہی ہیں۔

جاپانی بحریہ کا یہ دورہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بحری قوت کے اظہار کا سب سے بڑا مظاہرہ ہو گا۔

چین کے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ جنوبی بحیرہ چین میں اپنا جہاز بھیجنے کے منصوبوں کے متعلق جاپان کے سرکاری موقف کا انتظار کر رہا ہے۔لیکن اسے توقع ہے کہ جاپان ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔

سن 1945 تک دوسری جنگ عظیم کے دوران اس سمندر کے دوجزیروں پر جاپان کا کنٹرول تھا۔

چین اب جنوبی بحیرہ چین کے تقریباً تمام علاقے کا دعوے دار ہےاور وہاں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے جاپان کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مغربی ملکوں اور امریکہ کے ساتھ مل کر اس سمندر میں آزادانہ بحری آمد ورفت کو یقینی بنانے کے لیے وہاں فضائی اور بحری گشت کر رہا ہے۔

تائیوان، ملائیشیا ، ویت نام ، فلپائن اور برونائی بھی اس سمندر کے مختلف حصوں کے دعوے دار ہیں ۔

جنوبی بحیرہ چین تیل گیس کے ذخائر سے مالامال ہے اور اس علاقے میں بڑے پیمانے پر مچھلیاں بھی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG