رسائی کے لنکس

غوطہ خور اس پانچ منزلہ جہاز کی تیسری اور چوتھی منزل پر نہایت احتیاط سے راستہ بنا کر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا میں کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 146 تک پہنچ گئی جب کہ بدھ کو امداد اور تلاش کی کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئیں۔

گزشتہ بدھ کو 476 افراد کو ایک سیاحتی جزیرے پر جانے والا بحری جہاز جنوب مغربی ساحل کے قریب ڈوب گیا تھا۔

غوطہ خور اس پانچ منزلہ جہاز کی تیسری اور چوتھی منزل پر نہایت احتیاط سے راستہ بنا کر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تیز سمندری لہروں کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔

محکمہ کوسٹ گارڈ کے ایک عہدیدار کو میونگ سوک کا کہنا تھا کہ غوطہ خوروں کی مدد کے جلد ہی زیر سمندر کارروائی کے لیے جدید سازو سامان مہیا کر دیا جائےگا۔

"ہم جلد ہی زیر سمندر کام کرنے والا ایک روبوٹ اور اسکینر مہیا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم مختلف سازوسامان اور آلات فراہم کرنے میں جو کچھ بھی ممکن ہے وہ کر رہے ہیں۔"

150 سے زائد مسافر تاحال لاپتا ہیں اور یہی خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کی بھی موت واقع ہوچکی ہوگی۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 300 تک پہنچ سکتی ہے جس سے یہ دو دہائیوں میں جنوبی کوریا میں ہونے والا سب سے زیادہ ہلاکت خیز سمندری حادثہ ہو گا۔

اس واقعے کے خلاف جنوبی کوریا میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے خصوصاً حادثے کے وقت کشتی چھوڑنے والے اولین افراد میں شامل کپتان اور عملے کے ارکان پر لوگ شدید برہم ہیں۔

حکام تاحال اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ 6800 ٹن وزنی بحری جہاز کیونکر ڈوبا۔ اب تک کی دستیاب معلومات سے یہ پتا چلا ہے کہ جہاز نے بہت تیزی سے اپنا رخ بدلا اور پھر ایک رخ پر ہی ڈوبتا چلا گیا۔
XS
SM
MD
LG