رسائی کے لنکس

لاہور میں ہونے والے اس اسٹیج ڈرامے کو ریاست ورجینیا کے کالج آف ولئیم اینڈ میری میں عالمی تھئیٹر کی استاد کلئیر پیمنٹ پیش کر رہی ہیں۔ ڈرامے کے سب کردار اصل خواجہ سرا ہیں۔

خواجہ سراؤں کو پاکستان میں ہیجڑہ، کھسرا، زنخا اور نہ جانے کیسے کیسے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ بیشتر لوگ انہیں معاشرے کا قابلِ نفرت حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جب کسی سے پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں سمجھتے ہیں، تو ان کے پاس دلیل تو کوئی نہیں ہوتی بس وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ شروع ہی سے ایسا ہوتا آرہا ہے۔

ایسی مایوس کن صورتِ حال میں بھی کچھ لوگ امید کی ایک کرن کے طور پر خواجہ سراؤں پر جو بیت رہی ہے اس سے معاشرے کو اس انداز سے آگاہ کرنے کے لیے آگے آئے ہیں کہ امکان پیدا ہورہا ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی ممکن ہے، معاشرہ کوئی نسبتاً بہتر مقام دیدے۔

ایسی ہی ایک کوشش کا حصہ بنی ہیں امریکہ کی ریاست ورجینیا میں واقع 'کالج آف ولیم اینڈ میری' میں ورلڈ تھیٹر کی اسسٹنٹ پروفیسر کلیئر پیمنٹ جو آج کل لاہور میں 'تیسری دھن' کے عنوان سے ایک اسٹیج ڈرامے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ یہ ڈرامہ دسمبر کی 16 اور 17 تاریخ کو الحمرا آرٹس کونسل کے ہال نمبر 2 میں پیش کیا جائے گا۔

اس اسٹیج ڈرامے کے سب کردار اصل خواجہ سرا ہیں جو اس ڈرامے کے دوران ، معاشرے کے ہاتھوں ان پر جو بیتا ہے، اس کو انتہائی پراثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔

'تیسری دھن' نامی یہ اسٹیج پلے گزشتہ برس مارچ میں لاہور میں پہلی بار پیش کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ امریکہ کی ییل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف سیکرڈ میوزک اور ریاست ٹیکساس کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ میں پیش کیا جاچکا ہے۔ اسی برس نیشنل کالج آف آرٹس راول پنڈی اور برٹش کونسل کے تعاون سے کراچی میں 2016ء کے موسمِ بہار کے علاوہ کوپن ہیگن میں بھی اس کی نمائش ہوچکی ہے۔

اب لاہور میں یہ ڈرامہ دوبارہ پیش کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ کلیئر پیمنٹ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک دستاویزی تھیٹر ہے جس میں چھ خواجہ سرا پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربات سے ناظرین کو آگاہ کرتے ہیں کہ جہاں نہ وہ مرد ہیں اور نہ عورت۔

'تیسری دھن' کی ریہرسل جاری ہے۔
'تیسری دھن' کی ریہرسل جاری ہے۔

ان دونوں اصناف کے درمیان وہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کو پراثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔

پروفیسر پیمنٹ کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ ان کی اور ڈائریکٹر شہناز خان کی ریسرچ کا نچوڑ ہے جو انہوں نے برسوں پاکستان میں خواجہ سراؤں کی زندگیوں، ان کی جدوجہد اور ان کی ثقافت پرکی ہے۔ یہ ڈرامہ 'اولومو پولو میڈیا' کی پیش کش ہے۔

نیلی رانا، خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں اوراس ڈرامے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے پہلے کبھی اداکاری نہیں کی تھی لیکن چونکہ اس ڈرامے میں ہماری اپنی کہانی ہے اس لیے ہمیں اس میں ایکٹنگ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کہانی اپنی ہوتی ہے, تو چاہے اسے کم لوگ سنیں یا زیادہ، لیکن اگر سننے والے اچھے طریقے سے آپ کی کہانی سنتے ہیں تو ہمیں اچھا لگتا ہے۔

سنی خان اس ڈرامے میں ایک اور کردار نبھارہی ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پچھلے برس اس ڈرامے میں ایکٹنگ کرنے کے دوران انہیں نوکری کی پیش کش ہوئی اور وہ اب ایک ہیلتھ لائن میں ایڈمن اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

"تیسری دھن" نامی اس ڈرامے کی ریہرسلز زور و شور سے جاری ہیں ۔ کلیئر پیمنٹ کو امید ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی بہت سے لوگ یہ ڈرامہ دیکھنے الحمرا آرٹس کونسل کا رخ کریں گے اور ڈرامے کے دونوں دن ہاؤس فل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG