رسائی کے لنکس

پونم پانڈے کو امید نہیں تھی کہ انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے زبانی کلامی تنقید کے بعد عملی احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا

بالی وڈ کی بولڈ ایکٹریس پونم پانڈے کے کریڈٹ پر کوئی ہٹ فلم تو نہیں، لیکن میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں وہ کسی بھی سپر ہٹ ایکٹریس سے پیچھے نہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ان کی شہرت اور میڈیا اٹریکشن کی وجہ ان کا بے باک اسٹائل اور بولڈ سین اور فوٹو شوٹس ہیں۔
پونم پانڈے کی نئی فلم ’نشہ‘ بھی ریلیز سے پہلے ہی اپنے سبجیکٹ یا اداکاری کی وجہ سے سے نہیں، بلکہ پونم کے بے باک اسٹائل اور بولڈ ترین سینز کے باعث بالی وڈ اور میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
بھارتی میگزین’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق ’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘ کے محاورے پر سو فیصد یقین رکھنے والی پونم پانڈے کو امید نہیں تھی کہ انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے زبانی کلامی تنقید کے بعد عملی احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ممبئی میں فلم نشہ کے پوسٹرز سیاسی جماعت شیوسینا کے کارکنوں کے غصے کا سبب بن گئے۔
ممبئی کے علاقوں ماہم، لوئر پریل،بوری والی اور اندھیری میں لگنے والے پونم پانڈے کے پوسٹرز کو شیوسینکو ں نے اتار کرجلا ڈالا۔ غصے میں لال پیلے کارکنوں نے احتجاج کے دوران فلم ’نشہ‘ پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس ساری صورتحال سے پریشان پونم پانڈے نے سماجی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں مختلف قسم کے تنازعوں کا سامنا پہلے بھی کرتی رہی ہوں۔ گو کہ بعض مرتبہ جو ایشوز اٹھائے جاتے ہیں وہ حقیقی نہیں ہوتے لیکن اب یہ جو احتجاج ہوا ہے اس نے مجھے دکھی کر دیا ہے۔ مجھے تو اب فلم کی ریلیز کی فکر ہو گئی ہے۔
فلم کے پروڈیوسر آدتیہ بھاٹیہ بھی فلم کی ریلیز کے بارے میں پریشان ہیں۔

اُن کے بقول، مجھے ملک کی سیاسی جماعتوں پر رحم آتا ہے جو اصل مسائل کو چھوڑ کر فلموں کے بارے میں احتجاج پر اتر آئی ہیں۔ ’نشہ‘ ریلیز ہونے والی ہے اور انہوں نے فلم کی پبلسٹی کے لئے لگائے گئے پوسٹرز پھاڑ کر جلاڈالے۔ میں کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لوں گا، کیونکہ اس سے فلم کی ریلیز پر اثر پڑ سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG