رسائی کے لنکس

اس اعزاز کے لیے دولت مشترکہ بھر کے ممالک سے پیشہ ور نوجوانوں اور مقامی 'ہیروز' کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو اپنی کمیونٹی میں مثبت تبدیلی لانے کا کام کر رہے ہیں

دنیا میں ایسے متاثرکن لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی جسمانی معذوری کو اپنی مجبوری بنانے کے بجائے لوگوں کے لیے ایک مثال بن کر جیتے ہیں۔ سلیمان ارشد بھی ایک ایسے ہی باہمت نوجوان ہیں جنھوں نے اپنی بینائی کی کمی کو کبھی اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا؛ بلکہ وہ پاکستان میں معذور نوجوانوں کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سلیمان ارشد حال ہی میں ایک بین الاقوامی اعزاز کے حقدار قرار پائے ہیں۔ انھیں پاکستان میں معذور نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے ایک منصوبےکے لیے اس سال 'کامن ویلتھ یوتھ ورکر 'کا نام دیا گیا ہے۔

اس اعزاز کے لیے دولت مشترکہ بھر کے ممالک سے پیشہ ور نوجوانوں اور مقامی 'ہیروز' کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو اپنی کمیونٹی میں مثبت تبدیلی لانے کا کام کر رہے ہیں۔

یہ ایوارڈ دولت مشترکہ کے یوتھ پروگرام کی طرف سے لندن میں منعقدہ بین الاقوامی یوتھ ویک کے دوران دیا گیا۔ رواں برس یوتھ ویک کی تقریبات کا موضوع کھیل اور تخلیقی فنون کے ذریعے نوجوانوں کو با اختیار بنانا تھا۔

سلیمان ارشد کو کھیل کا استعمال کرتے ہوئےنوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لیے خدمات انجام دینے پر ایشیا سے 'کامن ویلتھ یوتھ ورکرز ایوارڈ 2016' سے نوازا گیا ہے۔

سلیمان ارشد نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں کہا کہ ''میں بہت خوش ہوں کہ میری کوششوں کو کامن ویلتھ سیکریٹریٹ کی طرف سے تسلیم کیا گیا ہے اور یہ ایوارڈ واضح کرتا ہے کہ میں کچھ اچھا کام کررہا ہوں ''۔

سلیمان ارشد خاص طور پر اسلام آباد اور لاہور میں کھیلوں کےذریعے اپنی کمیونٹی کے معذور نوجوانوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک سماجی تنظیم 'پاکستان پیرا کلائمنگ کلب' کے نام سے بنا رکھی ہے جس کے وہ صدر ہیں۔

23سالہ سلیمان ارشد پنجاب کے انسٹی ٹیوٹ ایڈمنسٹریو سائنس یونیورسٹی میں بی ایس (منجمنٹ) فائنل کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی یوتھ ورک ویک ایک ایسا پلیٹ فارم ہےجو نوجوان پروفیشنلز کو ان کےکام کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن، افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت پر برطانوی ویزا حاصل نا کرنے کی وجہ سے مجھے ان تقریبات میں شرکت کا موقع نہیں مل سکا۔ تاہم، سلیمان کا کہنا تھا کہ ایوارڈ کی تقریب میں ان کا ایک مختصر ویڈیو پیغام سنایا گیا ہے۔

سلیمان نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے چھ ماہ کی عمر میں گلاکوما (کالا پانی) مرض کی تشخیص ہوئی تھی جس سے میری آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ ساتویں جماعت کے بعد مجھے اسپیشل اسکول میں داخلہ لینا پڑا جہاں میرے جیسے طالب علموں کے لیے صرف بلائنڈ کرکٹ کھیلنے کا انتخاب موجود تھا، جبکہ مجھے بچپن سے فٹ بال پسند تھی ایسے میں اگر میں کرکٹ نہیں کھیلتا تو اپنی محدود بینائی کے ساتھ صرف ایتھلیٹ بن سکتا تھا۔ لہذا، میں نے اپنا کھیلوں کا شوق پورا کرنے کے لیے دوڑوں کے مقابلے میں حصہ لینا شروع کیا اور پاکستان پیرا لیمپکس کی طرف سے منعقدہ سو میٹر دوڑ کے مقابلوں میں سونے اور چاندی کے تمغےحاصل کئے۔

سلیمان نے بتایا کہ وہ کچھ الگ کرنا چاہتے تھے اور یہ ان کی لگن تھی کہ انھوں نے اپنی کم بینائی کے باوجود وال کلائمنگ (چڑھائی) کی تربیت حاصل کی اورجب وہ مہارت کے ساتھ وال کلائمنگ کرنے لگے تو انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ جب میں یہ کرسکتا ہوں تو میرے جیسے دوسرے افراد بھی یہ کرسکتے ہیں اور ایسا موقع انھیں بھی ملنا چاہیئے اور اس خیال کے ساتھ انھوں نے 2014 میں پاکستان پیراکلائمنگ کلب قائم کیا جو پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا کلائمنگ کلب ہے۔

سلیمان کا کہنا تھا کہ میں اور میری ٹیم کلب کو رضا کارانہ طور پر چلا رہی ہےاگرچہ اسلام آباد میں پاکستان میں کلائمنگ اور مہم جوئی کے فروغ کے لیے کھیلوں کی ایک ایک غیر سرکاری تنظیم پاکستان الپائن کلب کام کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے اپنے وسائل محدود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بینائی سے محروم افراد کے لیے بلائنڈ فٹ بال اور بلائنڈ ٹیبل ٹینس کلب بھی شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کے ساتھ جلد ہی ایک 'چیریٹی ایونٹ' کا اہتمام کرنے جارہے ہیں جس میں طلبہ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انھیں وال کلائمننگ سکھائی جائے گی۔

سلیمان نے اس سال کے اوائل میں اقوام متحدہ کی تنظیم برائے کھیلوں کی ترقی اور امن کی طرف سے جاپان میں ینگ لیڈر شپ کیمپ میں شرکت کی تھی اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم تجربہ تھا جس میں انھوں نے یہ سیکھا کہ کس طرح کھیلوں سے یوتھ امپاورمنٹ پروگراموں کے فروغ کے لیے کام کیا جاسکتا ہے۔

سلیمان نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ پاکستان میں عام طور پر ایک معذور شخص کو مجبور اور لاچار سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن ہم صحت مند جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کے ذریعے ان کی ترقی کے لیےکوششیں کر رہے ہیں، تاکہ انھیں بھی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG