رسائی کے لنکس

شام کےصدرکےلیے ایران کا اعلیٰ ترین اعزاز


ایرانی صدر احمدی نژاد شام کے صدر بشار الاسد کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں

ایرانی صدر احمدی نژاد شام کے صدر بشار الاسد کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں

ایران کے صدر نےفلسطینی حقوق، اور بقول اُن کے، اسرائیلی جارحیت کی مزاحمت کےاعتراف کے طور پر شامی رہنما بشار الاسدکو ایران کا اعلیٰ ترین اعزارعطا کیا ہے۔

صدر محمود احمدی نژاد نے ہفتے کو اعزاز کا اعلان کیا جِس سے قبل اُن کے مسٹر اسد سےتہران میں وسیع تر معاملات پر مذاکرات ہوئے جِن میں اسرائیل فلسطینی امن عمل پر بات چیت شامل ہے۔

ایران کےسرکاری ذرائع ابلاغ نے مسٹر احمدی نژاد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ شام کی ایثار پسندی کےبغیرعلاقے کا کوئی بھی ملک اسرائیل کی‘ زیادتیوں’ سےمحفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ میڈیا کی طرف سے دیے گئے ایک فوٹومیں دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کے تھامے ہوئےبلند ہاتھوں کودکھایا گیا ہے، جب کہ مسٹر اسد نےنیلےاور سفید رنگ کا پٹکا باندھا ہوا ہے۔

اِس سےقبل ہفتے کو دونوں افراد نےاسرائیل اورفلسطینیوں کےدرمیان امن بات چیت پرگفتگو کی۔ شام کےحکومتی خبر رساں ادارے ‘صنعا’ نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیوں کی توسیع میں اضافہ اورغزہ کی ناکہ بندی سے، اُن کے بقول، اسرائیل کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے۔


مسٹراحمدی نژاد نے امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کو امریکی صدر براک اوباما کی طرف سےامریکہ میں حمایت کے حصول کی ایک کوشش قرار دیا۔ گذشتہ ماہ شام کے دورے میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین براہِ راست بات چیت ناکام تھی۔

XS
SM
MD
LG