رسائی کے لنکس

شام کے زخمی لبنان میں زیر علاج

  • ہنری ریجویل

شام کے زخمی لبنان میں زیر علاج

شام کے زخمی لبنان میں زیر علاج

شام میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والے لوگ علاج کے لیے لبنان میں داخل ہو رہے ہیں۔ شام میں انہیں علاج کی سہولتیں نہیں ملتیں کیوں کہ وہ کہتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز اکثر احتجاج کرنے والوں کی تلاش میں اسپتالوں پر چھاپے مارتی ہیں۔ وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ہنری ریجویل لبنان کے شہر طرابلس میں ایک خفیہ کلینک میں گئے اور وہاں ہر عمر کے مریضوں سے ملے جو لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوئے ہیں۔

چھ سالہ عمران کا شمار اس اسپتال کے سب سے کم عمر مریضوں میں ہوتا ہے ۔ اسے چلنے میں شدید دقت ہوتی ہے ۔ جب وہ اپنی ٹانگ دکھاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ۔ اس کی پنڈلی کا ایک ٹکڑا غائب ہے اور اس کی جگہ زخم کا سرخ نشان ہے۔ عمران نے بتایا:’’میں یہاں اس لیے ہوں کہ انھوں نے مجھے گولی مار دی۔ میں اپنی والدہ کے ساتھ شام سے فرار ہو رہا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے فائرنگ شروع کر دی ۔ میری والدہ محفوظ رہیں لیکن میں زندگی بھر کے لیے معذور ہو گیا۔‘‘

طرابلس کے اس پرائیویٹ کلینک میں شام کے اور بھی بہت سے زخمی بچے داخل ہیں۔ ڈاکٹروں نے ہم سے کہا کہ ہم اس کلینک کا اتا پتا ظاہر نہ کریں۔ مریض اپنے چہرے چھپا لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی شناخت ہو گئی ، تو شام میں ان کے خاندان کے لوگوں کو اذیتیں دی جائیں گی اور انہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔
شام کی فوج کا ساتھ چھوڑ جانے والے ایک فوجی نے اپنا لیپ ٹاپ کمپیوٹر مستقل طور سے فیس بک، Skype اور یوٹیوب کے ساتھ کنیکٹ کر رکھا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اسپتال کے بیڈ سے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وہ شام کے اندر وڈیو تقسیم کر تے رہتے ہیں ۔’’

اس نے ہمیں حمص میں احتجاج اور جنازے کے وڈیو دیے۔ انھوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ ایک دوست کے کندھے پر سوار سفید لباس میں جو شخص نظر آ رہا ہے، وہ میں ہوں اور نعرے بھی میں ہی لگا رہا ہوں۔ وہ کہہ رہا ہے کہ میری آواز بڑی پاٹ دار ہے، اور میں موسیقی کو بھی سمجھتا ہوں۔ میں بڑے جوش و جذبے سے نعرے لگایا کرتا تھا۔ لوگ اس حکومت کا زوال چاہتے ہیں۔‘‘

چار مہینے قبل، ایک احتجاج میں وہ گولی کا نشانہ بن گیا ۔اس کے برابر والے بیڈ میں لیٹے ہوئے شخص نے اس کی جان بچائی اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس انتہائی خطرناک راستے سے انہیں لبنان لے آیا ۔ انھوں نے بتایا’’جی ہاں، یہ بڑا خطرناک کام ہے ۔ جب ہم ان احتجاجوں میں شامل ہوئے، تو ہم نے کہا کہ یا تو ہم بچ جائیں گے یا ختم ہو جائیں گے۔ میں اسد کی فوج میں شامل تھا ۔ میں نے فوج کو جو کچھ کرتے دیکھا ، اس کے بعد میں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ فوج انتہائی ظالم ہے۔فوجی لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ فوج کو اس سے مطلب نہیں کہ کوئی بچہ ہے یا بوڑھا آدمی ہے ۔ وہ سب کو ہلاک کر دیتے ہیں۔‘‘

برابر کے کمر ے میں، اور بہت سے زخمی احتجاجی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک شخص ہمیں ہڈی کا وہ ٹکڑا دکھاتا ہے جو گولی لگنے کے بعد اس کی ٹانگ سے نکالا گیا تھا۔ اس نے کہا’’اس کا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں۔ خود اسد یہ چاہتا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے تا کہ وہ اسے ہمارے خلاف استعمال کر سکے ۔ وہ باقی ہر چیز، جنگی جہاز، توپیں، سب کچھ استعمال کر چکا ہے ۔ اس نے ہولناک ظلم کیے ہیں۔ آپ حمص میں بابا امر کو ، جہاں میرا گھر تھا، دیکھیں گے ، یہ دیکھیں گے کہ لوگ کس حالت میں زندہ ہیں، تو آپ اپنے آنسو ضبط نہیں کر سکیں گے ۔‘‘

یہاں مریض کہتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ لبنان میں ان کا علاج ہو رہا ہے ۔ شام میں تو سیکورٹی فورسز مسلسل ہسپتالوں پر چھاپے مارتی رہتی ہیں اور احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کر لیتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG