رسائی کے لنکس

امن عمل میں شمولیت کے لیے طالبان کی پیشگی شرائط


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سلامتی کے امور کے ماہر اسد منیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قرائن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان بات چیت کے عمل کی طرف واپس آئیں اور ان کی طرف سے اتوار کو پیش کی گئی شرائط میں کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو ان کے ماضی کے موقف سے مختلف ہو۔

افغان طالبان نے پیشگی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تسلیم کیے جانے کے بعد ہی وہ امن مذاکرات میں دوبارہ شریک ہو سکتے ہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم پگواش کانفرنسز کے زیر اہتمام طالبان، افغان سول سوسائٹی اور قانون ساز ادارے کے نمائندوں کے درمیان دو روزہ بات چیت ہوئی۔

جس کے بعد شائع شدہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے ایک بیان میں اپنے رہنماؤں کا نام اقوام متحدہ کی پابندی کے شکار افراد کی فہرست سے خارج کرنے اور ان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا کہا ہے۔

بیان میں طالبان کا کہنا تھا کہ امن کے لیے یہ بنیادی اقدام ہیں جن کے بغیر امن کے لیے پیش رفت موزوں نہیں۔

افغانستان میں مصالحتی عمل کے لیے گزشتہ سال پاکستان کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کی پہلی براہ راست ملاقات ہوئی تھی جس میں چین اور امریکہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

لیکن یہ سلسلہ ایک ہی ملاقات کے بعد اس وقت ملتوی ہو گیا جب ملا عمر کے انتقال کی خبر منظر عام پر آئی۔ بعد ازاں طالبان کی طرف سے افغانستان میں کارروائیاں تیز کر دی گئیں اور متعدد ہلاکت خیز واقعات رونما ہوئے جس سے امن عمل کے دوبارہ شروع ہونے سے متعلق خدشات نے جنم لیا۔

سلامتی کے امور کے ماہر اسد منیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قرائن یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان بات چیت کے عمل کی طرف واپس آئیں اور ان کی طرف سے اتوار کو پیش کی گئی شرائط میں کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو ان کے ماضی کے موقف سے مختلف ہو۔

یہ جو شرائط لگائی ہوئی ہیں یہ سطحی چیزیں ہیں انھوں (طالبان) نے آئین کی بات نہیں کی ورنہ وہ شروع سے بولتے ہیں کہ 2004ء والے آئین میں آپ تبدیلیاں لائیں گے جب ایک جگہ وہ بولتے ہیں کہ ہم آ رہے ہیں اور قطر میں وہ راضی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور حکومت (افغانستان) ان کی عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی وہ سارے چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائیں کوئی بات چیت ہو مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس میں پیش رفت ہو گی۔"

تاہم افغان امور کے ماہر اور سابق سفارتکار رستم شاہ مہمند اب تک ہونے والی مصالحتی کوششوں سے کچھ زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

"انھوں (طالبان) نے یہی کہا ہے کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بات چیت میں شامل ہو جائیں بات چیت میں شامل ہونے کے لیے کوئی تو اعتماد سازی ہونی چاہیئے پہلے تو آپ (حکومت) ہمارے لیڈر ہیں ان کے خلاف جو لسٹیں بنائی ہیں ان کی جائیداد وغیرہ ان کی نقل و حرکت پر پابندی ہے وہ کہیں جا نہیں سکتے جب ہم کہیں جا نہیں سکتے پھر امن بات چیت میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں۔"

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں امن عمل کو بحال کرنے کے لیے بھی اب تک دو اجلاس ہو چکے ہیں جب کہ تیسرا اجلاس چھ فروری کو ہونے جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG