رسائی کے لنکس

شدت پسندوں کا حملہ، دس سالہ افغان طالبِ علم ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

واصل احمد کی روداد ایک بار پھر اس جانب توجہ دلاتی ہے کہ تنازعات کے شکار ممالک میں بچوں کو عسکری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔

افغانتان میں طالبان عسکریت پسندوں نے اس دس سالہ بچے کو ہلاک کر دیا ہے جو اکثر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ لیتا رہا ہے۔

صوبہ اورزگان کی پولیس کے نائب سربراہ رحیم اللہ خان کا کہنا ہے کہ واصل احمد کو مرکزی شہر ترین کوٹ میں پیر کو اس وقت مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنے اسکول جا رہا تھا۔

ان کے بقول یہ بچہ اپنے چچا کے ساتھ مل کر مختلف مواقع پر طالبان کے خلاف برسر پیکار رہا ہے۔

پولیس عہدیدار کے مطابق واصل کے چچا ملا عبدالصمد طالبان کے ایک سابق کمانڈر تھے جنہوں نے چار سال قبل اپنے متعدد ساتھیوں کے ساتھ حکومت سے وفاداری کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انھیں مقامی پولیس کا کمانڈر بنا دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال طالبان کی طرف سے حملے اور محاصرے دوران بھی یہ بچہ ان کا مقابلہ کرنے والوں میں شامل رہا اور چند ماہ قبل ہی اس نے ہتھیار چھوڑ کر اسکول میں داخلہ لے لیا تھا۔

اس بچے کو مقامی پولیس نے باقاعدہ طور پر ایک ہیرو قرار دیا تھا۔

واصل احمد کی روداد ایک بار پھر اس جانب توجہ دلاتی ہے کہ تنازعات کے شکار ممالک میں بچوں کو عسکری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم "چائلڈ سولجرز انٹرنیشنل" یہ کہہ چکی ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے علاوہ سرکاری فورسز بھی مبینہ طور پر کم عمر بچوں کو جنگ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG