رسائی کے لنکس

طالبان راہنما کا افغانوں کو شجرکاری کرنے کا پیغام


ایک افغان بچہ جلال آباد کے قریب چراگاہ میں کھڑا ہے۔ فائل فوٹو

افغان حکومت میں شامل حکام نے اس پیغام کو مسترد کرتے ہوئے اسے "رائے عامہ کو دھوکہ دینے" اور اس گروپ کے "جرائم اور تباہی" سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔

افغانستان میں طالبان کے راہنما نے افغانوں سے کہا ہے کہ وہ ملک میں بھرپور شجرکاری کریں۔

اتوار کو چار مختلف زبانوں میں جاری کیا گیا افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخونزادہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ماضی کی طرح موسم بہار میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ملا ہبت اللہ اخونزادہ کا بیان میں کہنا تھا کہ "عزیز ہم وطنوں شجرکاری میں مجاہدین کے ساتھ مل کر حصہ لیں۔ درخت ماحولیاتی تحفظ، اقتصادی ترقی اور زمین کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔"

لیکن افغان حکومت میں شامل حکام نے اس پیغام کو مسترد کرتے ہوئے اسے "رائے عامہ کو دھوکہ دینے" اور اس گروپ کے "جرائم اور تباہی" سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔

صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان شاہ حسین مرتضٰوی کا کہنا تھا کہ "طالبان تحریک کے قیام ان لوگوں کے ذہنوں میں صرف ایک ہی چیز ہے، لڑائی، جرائم اور تباہی۔"

اقوام متحدہ کے مطابق 2015ء میں افغانستان میں عام شہریوں کے جانی نقصان میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا جس میں 11500 افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ متاثرین میں تین ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد 2014ء سے 24 فیصد زیادہ تھی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ " انھیں (طالبان کو) دیسی ساختہ بم لگانا بند کرنا چاہیے جو روزانہ خواتین اور بچوں سے بہت سے معصوم افغانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔"

کابل میں سیاسی امور کے ایک تجزیہ کار واحد مژدا کے مطابق "شجر کاری" کا پیغام یا اس گروپ کا یہ دعویٰ کہ وہ سڑکیں اور پل بنا رہا ہے عام طور پر طالبان کی اس توقع کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے زیر تسلط علاقوں میں قیادت لا سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG