رسائی کے لنکس

’خاموشی کا شور‘۔۔ فاطمہ ثریا بجیا کو جاپان کا انمول خراج تحسین


یہ بجیا ہی تھیں جنہوں نے جاپانی ڈراموں کو اردو کے قالب میں ڈھالا اور جاپان حکومت اور خاص کر جاپان قونصل خانے نے بجیا کے انہی ڈراموں کو ’خاموشی کا شور‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا ہے، جبکہ اس کی تدوین پاکستان کے جواں سال قلمکار خرم سہیل کی محنتوں کا ثمر ہے

جاپان اور اردو کا ساتھ ایک صدی سے بھی پرانا ہے۔ پاکستان اور اس کی ثقافت و ادب کو بھی جاپان نے جو اہمیت دی ہے وہ بے مثال ہے۔ بقول انور مقصود، جاپانی حکومت نے جو اردو ادب کے حوالے سے ان پر احسان کیا ہے وہ اسے کبھی اتار نہیں سکیں گے۔

فاطمہ ثریا بجیا پاکستانی ڈرامے کا ایک معتبر نام ہیں اور ڈرامے کی تاریخ کبھی بھی ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے مایہ ناز مصنف اور دانشور انور مقصود کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’بجیا کو جتنی محبت پاکستان سے تھی اتنی ہی جاپان سے بھی تھی۔ یہ بجیا ہی تھیں جنہوں نے جاپانی ڈراموں کو اردو کے قالب میں ڈھالا اور جاپان حکومت اور خاص کر جاپان قونصل خانے نے بجیا کے انہی ڈراموں کو ’خاموشی کا شور‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا ہے جبکہ اس کی تدوین پاکستان کے جواں سال قلمکار خرم سہیل کی محنتوں کا ثمر ہے۔

جاپان کے کراچی میں واقع ثقافتی مرکز میں اس کتاب کی باقاعدہ ایک تقریب میں رونمائی بھی ہوئی جس میں شہر کے نامور قلمکاروں، صحافیوں، فنکاروں، ادیب اور دانشوروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ان شخصیات میں سابق جاپانی سفارت کار عظمت اتاکا، قونصل جنرل توشی کاز وایسو مورا اداکار شکیل، قاضی واجد، صحافی، محقق اور کتاب کے مدون خرم سہیل، محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل، ماہر تعلیم سعدیہ راشد, ڈراما نگار، مصور، گیت نگار اور میزبان انور مقصود نمایاں تھے۔

انور مقصود بجیا کے بھائی بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجیا کی پہلی کتاب ہے، ورنہ اس سے پہلے ایک کتاب بجیا پر آئی تھی۔ توشی کازو ایسومورا صاحب نے خود اس کتاب کے اشاعتی کام کی نگرانی کی، یہ ان کے خلوص کی علامت ہے۔ یہ کام جو ہم لوگوں کو کرنا چاہیے تھا، حکومت یا پی ٹی وی کو کرنا چاہئے تھا وہ جاپانی قونصل خانے نے کیا ہے۔‘

’خاموشی کا شور‘ اردو زبان میں شائع ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے، جس کا موضوع جاپانی ڈرامے ہیں۔ فاطمہ ثریا بجیا نے جاپانی ادیبوں کی کہانیوں کے مرکزی خیال کولے کر انہیں اردو زبان میں ڈرامائی تشکیل دی اور بعد میں انہیں اسٹیج پر بھی پیش کیا۔

کتاب میں خرم سہیل نے جاپانی ادیبوں کے تعارف، ڈراموں کے خلاصے اور جاپانی تھیٹر کی مختصر تاریخ قلم بند کی ہے، جبکہ بجیا اور دیگر اہم جاپانی مصنفین کی کچھ رنگین مگر نادر تصاویر بھی کتاب کا حصہ ہیں۔

تقریب اجرا کا اہتمام کراچی میں قائم جاپان کے قونصل جنرل ایسوموراتوشی کازو نے کیا جو خود بھی بہت اچھی اردو لکھتے پڑھتے اور بولتے ہیں۔ تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں میری کئی مرتبہ تقرری ہوئی، میں اس شہر سے بخوبی واقف تھا جبکہ بجیا کی شہرت بحیثیت ڈراما نگار قائم تھی۔ بجیا کا جاپان سے خاص لگائو تھا۔ اسی لیے انہوں نے جاپانی کہانیوں کو ڈرامائی تشکیل دی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے اس کتاب کے ذریعے بجیا کو خراج تحسین پیش کیا،خرم کی محنت کا انتھک ثبوت اس کتاب کی صورت میں سامنے ہے، ہرچند کہ میری خواہش تھی کہ یہ کتاب بجیا کی زندگی میں شایع ہو جاتی، مگر یہ مشکل کام تھا۔ بجیا کی یادوں کی ایک لڑی یہ کتاب بھی ہے۔‘

عظمت اتاکامیں نے کراچی میں قائم جاپانی قونصل خانے میں ملازمت کی اور کئی دہائیوں تک محنت کرکے پاکستان اور جاپان کے تعلقات کو استوار کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ میں نے جاپانی ثقافت کے حوالے سے نت نئے پروگراموں کو پاکستان میں متعارف کروایا۔ جاپانی کہانیوں کو تھیٹر کے ذریعے پیش کرنے کے خیال کو بجیا سے شیئر کیا اور بجیا نے لبیک کہا۔ ان کے ڈرامے اسی خیال کا نتیجہ تھے۔‘

اداکار شکیل کا کہنا تھا کہ بجیا سے میرا تعلق صرف پیشہ ورانہ نہیں تھا بلکہ وہ میری ماں کی طرح تھیں۔ وہ محبت کی سفیر تھیں۔ ان سے میرا چار رشتہ چار دہائیوں پرانا ہے۔ میں جب تک زندہ ہوں، میں بجیا کو بھلا نہیں سکتا، بجیا اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جب علیل تھیں، تو ان کی یادداشت متاثر ہوئی، وہ ماضی کی باتیں کرنے لگی تھیں، میں ان کو اس حالت میں دیکھ نہ پاتا ، اس لیے کم جاتا، وہ اکثر کہتیں’’بہت دن ہوگئے، میرا ہیرو نہیں آیا‘‘ میں یہ سن کر روتا تھا۔ بجیا نے صرف ثقافت کو فروغ نہیں دیا بلکہ وہ سماجی خدمت میں بھی پیش پیش رہیں۔‘‘

ایک اور سینئر اداکار قاضی واجد کا کہنا تھا ’’میں نے بجیا کے بے شمار ڈراموں میں کام کیا، جو کام ان سے رہ گئے تھے،وہ بھی ہو رہے ہیں، جیسا کہ یہ کام، ان کے ڈرامے اب ’خاموشی کے شور‘ کے نام سے کتابی شکل میں قارئین کے لیے موجود ہیں۔ وہ ایک شور میں خاموشی سے چلی گئیں مگر آج بجیا کے لیے ہمارا دل ویسے ہی دھڑکتا ہے جیسے ان کی زندگی میں دھڑکتا تھا۔‘‘

خرم سہیل نے کہا کہ عظیم شخصیات کی قدر کیسے کی جاتی ہے، یہ میں نے جاپانیوں سے سیکھا کیونکہ انہوں نے جس طرح فاطمہ ثریا بجیا کی قدر کی، وہ قابل قدر ہے۔جاپانیوں کے ذریعے میں نے بجیا کو حقیقی معنوں میں دریافت کیا اور اسی تخلیقی سفر میں یہ کتاب بھی مرتب ہوئی۔

XS
SM
MD
LG