رسائی کے لنکس

تیونس: عبوری کابینہ کا اعلان ,ملک بھر میں مظاہرے جاری

  • لیسا برینٹ

تیونس: عبوری کابینہ کا اعلان ,ملک بھر میں مظاہرے جاری

تیونس: عبوری کابینہ کا اعلان ,ملک بھر میں مظاہرے جاری

ایسے میں جب کہ شمالی افریقہ کے ملک تیونس بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں ، وزیر اعظم عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ اسکے علاوہ وزیر اعظم نے 60 روز کے اندر انتخابات کا بھی اعلان کیا ہے۔
مظاہرین سابق صدر زین العابدین کی جماعت آرڈی سی سے منسلک لوگوں کی رخصتی کا مطالبہ کرتے ہوئے’’ ڈکٹیٹر سے نتھی لوگ چلے جائیں‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں ۔

مظاہرین مرکزی شاہرہ حبیب بورگیوئبا بلیوارڈ پر پولیس اور ٹینکوں کے سامنے نعرے لگارہے تھے، جو اپنے ہتھیاروں کے ساتھ تیار حالت میں کھڑے تھے۔ مسلسل چوتھے روز بھی دارالحکومت میں گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور سروں پر ہیلی کاپٹرپرواز کررہے تھے۔

وزیر اعظم محمد الغنوشی ، جو پرانی حکومت کا حصہ رہے ہیں، توقع ہے کہ انتخابات تک کے لیے، جو دو ماہ کے اندر کرانے کا وعدہ کیا گیا ہے، ایک عبوری کابینہ کا اعلان کریں گے۔ رپورٹوں کے مطابق عبوری کابینہ میں حزب اختلاف کے کچھ ارکان بھی شامل ہوں گے، تاہم ان کے پاس خارجہ اور داخلہ جیسی اہم وزارتیں نہیں ہوں گی۔

23 سالہ علیم جیسے مظاہرین چاہتے ہیں کہ تمام پرانے لوگ چلے جائیں۔ ان کا کہنا ہے حکومت کسی اور طرح کی ہونی چاہیے، اس انداز کی نہیں۔ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے والی حکومت ہونی چاہیے۔

مظاہرین میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں جیسا کہ 46 سالہ لامیہ ، جو تیونس کی وزارت خزانہ میں کام کرتی ہیں۔ یہ وزارت حالیہ دنوں میں مظاہروں اور بلوؤں کے باعث بند پڑی ہے۔

لامیہ کا کہنا ہے کہ تنونس کے شہریوں نے پرانی حکومت کے لوگوں کو نئی عبوری حکومت میں دوبارہ دیکھنے کےلیے کئی ہفتوں تک مظاہرے نہیں کیے تھے ۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کا ملک دومہینوں میں انتخابات کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ صحیح معنوں میں جمہوریت کے قیام میں کم ازکم ایک سال لگ سکتا ہے۔

بہت سے تجزیہ کار اور سیاسی کارکن بھی اس خیال سے متفق ہیں۔

دریں اثناء، اقتصادی ماہرین کے مطابق تیونس میں جاری مظاہروں سے ملک کی معیشت کو اب تک 2 کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ پیر کو عبوری حکومت نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ مظاہرین نے پولیس اسٹیشنز، بینکوں، ٹاؤن ہالز، اور دیگر کئی سرکاری اور غیر سرکاری عمارات کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق ان ہنگاموں کی وجہ سے ملک کی سیاحت صنعت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ تیونس میں اس وقت بے روزگاری کی شرح 14 فی صد ہے جو کہ نوجوانوں میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG