رسائی کے لنکس

ترکی میں نیا آئین لکھنے کا کام شروع

  • ڈوریان جونز

ترکی میں پارلیمینٹ کے ارکان نے نیا آئین لکھنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ترکی کو اس کے ماضی سے نجات دلانے کے لیے، جس پر فوج کا غلبہ تھا، انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگرچہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ نیا آئین ضروری ہے، سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ عمل اب بھی خطرے میں ہے۔

ترکی کی پارلیمینٹ نے 30 سال پرانے قومی چارٹر کو دوبارہ لکھنے کا کام شروع کر دیا ہے جو 1980ء میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے دو سال بعد تحریر کیا گیا تھا۔ نئے آئین میں ملک میں ان اہم تبدیلیوں کی عکاسی ہوگی جو ایک اعتدال پسند حکومت کے دور میں آئی ہیں۔

استنبول کی بیچسہر یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ ملک کے مستقبل کے لیے نیا آئین انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ترک جمہوریہ کی تاریخ میں یہ صحیح معنوں میں انتہائی اہم لمحہ ہے۔ اس ملک کو ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ اس کے معاملات کس طرح چلائے جائیں گے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے تمام باشندے مل جل کر رہیں اور کوئی یہ محسوس نہ کرے کہ اسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ آج کل یہ احساس موجود ہے۔‘‘

عام خیال یہی ہے کہ فوج کے بنائے ہوئے موجودہ آئین سے آزادیوں کی حفاظت نہیں ہوتی بلکہ انہیں محدود کر دیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان کہتے ہیں کہ نئے آئین کے مسودے میں جو سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، شہریوں کو اصل اہمیت دی جائے گی، مملکت کو نہیں۔ سول سوسائٹی کے گروپوں، مذہبی تنظیموں اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک زیادہ لبرل آئین کے مسودے کی تیاری کے لیے اپنی تجاویز دیں۔ ملک کی قانونی کردش پارٹی، بی ڈی پی بھی اس عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

پارلیمینٹ میں کردوں کی بی ڈی پی پارٹی کے رکن ارتوگرال کُرکو محتاط انداز میں پُر امید ہیں، لیکن انہیں کچھ تشویش بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر تمام فریق بہتر آئین کے لیے کوشش کریں، تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی۔ لیکن بڑی دشواری طیب اردگان کے ان عزائم کی وجہ سے پیدا ہوگی کہ وہ صدارتی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد اگر معاملات خراب ہوئے، تو اس کی براہ راست وجہ وزیرِ اعظم کے عزائم ہوں گے۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ شاید ترکی میں جس چیز کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن جو سب کے علم میں ہے وہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم اردگان ، فرانس یا امریکہ کی طرح، صدارت کا ایسا عہدہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں جو اختیارات کے لحاظ سے کہیں زیادہ طاقتور ہو۔

مسٹر اردگان نے کہا ہے کہ وہ 2015ء میں اپنے عہدے کی تیسری مدت مکمل کرنے کے بعد، وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے۔ پیر کے روز انھوں نے کہا کہ ہمیں صدارتی نظامِ حکومت پر بات چیت کرنی چاہیئے۔ لیکن حزبِ اختلاف کی تمام پارٹیوں نے فوری طور پر موجودہ طاقتور پارلیمانی نظام میں کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کی۔ سیاسیات کے پروفیسر اختر کو اندیشہ ہے کہ اس تنازعے سے نئے آئین کے بارے میں موجودہ اتفاقِ رائے ختم ہو سکتا ہے، بلکہ ترکی کی جمہوریت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’’پارٹی کے نظریہ سازوں نے جو وزیرِ اعظم کے بہت نزدیک ہیں، جس نظام کا خاکہ تیار کیا ہے، وہ امریکہ کے صدر کی طرح نہیں، بلکہ روس کے صدر کی طرح ہے جس میں اختیارات کی کوئی حد اور توازن کا کوئی نظام نہیں، اور ایک فرد کے ہاتھوں میں بہت زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں۔‘‘

نئے آئین کی آخری شکل کیا نکلے گی، اور کیا پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام قائم ہو جائے گا، اس کا فیصلہ پارلیمینٹ، اور بالآخر عوام کریں گے۔ مسٹر اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمینٹ پارٹی کے پاس پارلیمینٹ میں اتنی نشتیں ہیں جو نیا آئین منظور کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ بعد میں ریفرینڈم کے ذریعے اس آئین کی توثیق کی جائے گی۔ لیکن مبصرین کو ڈر ہے کہ اس طرح سے منظور کیا جانے والا آئین، ملک کو متحد کرنے کے بجائے، اختلافات کو زیادہ شدید کر دے گا۔

XS
SM
MD
LG