رسائی کے لنکس

بدھ کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ کی ایک استقبالیہ تقریب میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی اہلیہ سمانتھا کیمرون نے چانس ٹو شائن نامی کرکٹ مہم کی رضا کار کرکٹ کوچ صبا نسیم کو ' پوائنٹ آف دا لائٹ ایوارڈ ' پیش کیا۔

برطانیہ کی ایک چیریٹی سے وابستہ کرکٹ کوچ صبا نسیم کو لڑکیوں کے لیے کرکٹ کوچنگ کی رضا کارانہ خدمات انجام دینے پر قومی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

پچھلے سال اکتوبر میں صبا نسیم کو ایشین کرکٹ ایوارڈ کی طرف سے کوچ آف دا ائیر نامزد کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز ڈاؤننگ اسٹریٹ کی ایک استقبالیہ تقریب میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی اہلیہ سمانتھا کیمرون نے چانس ٹو شائن نامی کرکٹ مہم کی رضا کار کرکٹ کوچ صبا نسیم کو 'پوائنٹ آف دا لائٹ ایوارڈ' پیش کیا۔

انھیں اس ایوارڈ کے لیے سمانتھا کیمرون نے نامزد کیا تھا۔

یہ ایوارڈ ایسے غیر معمولی رضا کاروں کی شاندار خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جو اپنی کمیونٹی میں مثبت تبدیلی لانے کا کام کر رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صبا نے اپنے علاقے میں لڑکیوں کو کرکٹ سکھانے کے لیے انتھک کام کیا ہے وہ کرکٹ کے ذریعے لڑکیوں کو نظم و ضبط کا پابند بنا رہی ہیں۔ مجھے صبا نسیم کو برطانیہ کا460 واں 'پوائنٹ آف لائٹ ایوارڈ ' پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

صبا نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ وصول کرنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میری تمام محنت جو میں نے اس پراجیکٹ میں ڈالی ہے اس کا مجھے صلہ مل گیا ہے اور اس شاندار کامیابی پر اور خاص طور پر کرکٹ کے لیے خواتین کی نمائندگی کرنے پر مجھے فخر ہے۔

27 سالہ صبا نسیم نے چانس ٹو شائن سے کرکٹ کوچنگ سرٹیفیکٹ بیج ٹو حاصل کیا ہے اور اب اپنی مہارت کو دوسری لڑکیوں کو کھیل سے لطف اندوز کرانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

وہ مشرقی لندن میں ونسٹیڈ میں چانس ٹو شائن تنظیم کی اسٹریٹ کوچ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ جس کا کام شہری علاقوں کے نوجوانوں اور خصوصاً لڑکیوں کو کرکٹ کی طرف راغب کرنا ہے، جن کے پاس کرکٹ کھیلنے کے لیے سبز مقامات یا کرکٹ کلب موجود نہیں ہیں۔

صبا کرکٹ کے ذریعے اسکولوں اور متنوع کمیونٹیز میں مختلف پس منظر رکھنے والی لڑکیوں میں کرکٹ کے ذریعے ٹیم ورک اور نظم و ضبط پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

صبا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 2013ء میں لندن میں لڑکیوں کے لیے ایک کرکٹ کی ٹیم 'ریڈ برج رینجرز' کے نام سے قائم کی، مجھے اندازا ہو گیا تھا کہ مشرقی لندن ریڈ برج کے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کرکٹ ٹیم نہیں ہے لہذا اسکولوں کی لڑکیوں کو کرکٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے مجھے اسکولوں سے رابطہ کرنا پڑا اور ان سے تربیتی سیشن پیش کرنے کی اجازت حاصل کی۔

صبا نسیم آٹھ سے اٹھارہ برس کی 60 لڑکیوں کے لیے ایک ہفتہ وار تربیتی کیمپ چلاتی ہیں۔

چانس ٹو شائن تنظیم برطانیہ میں اسکولوں میں کرکٹ کے فروغ کے لیے آج سے دس سال قبل قائم کی گئی تھی اور آج اس تنظیم کی کوششوں سے 30 لاکھ نوجوان جن میں 46 فیصد لڑکیوں کی تعداد شامل ہے بارہ ہزار سے زائد اسکولوں اور کمیونٹی کے اسٹریٹ پراجیکٹ کے تحت کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG