رسائی کے لنکس

معذور أفغان پناہ گزینوں کو مصنوعی أعضاء کی فراہمی


بلوچستان میں معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاء تیار کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان میں معذور افراد کی بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاء تیار کیے جا رہے ہیں۔

او پی پی سی سینٹر میں معذور افراد کے لیے جدید مشینری کے ذریعے مصنوعی اعضاء تیار کئے جا رہے ہیں ، جبکہ زیادہ معذور افراد کو ویل چیئر ز بھی فراہم کی جارہی ہیں.

غلام مرتضیٰ زہری

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے’’ یو این ایچ سی آر‘‘نے پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ایک پناہ گزین کیمپ میں افغان جنگ کے متاثرہ معذور افراد کو مصنوعی اعضاء اور آلات فراہم کرنے کے منصوبے پر عمل در آمد شروع کر دیا ہے۔

اس منصوبے میں یواین ایچ سی آر کےتعاون سے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے’’دانش‘‘ کے پروگرام منیجر شفیع اللہ خان نے وائس آ ف امریکہ کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں 256 افغان معذور افراد کو ماہرین نفسیات کی جانب سے کونسلنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔

بلوچستان کے بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاء کی تیاری

بلوچستان کے بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاء کی تیاری

ان کے بقول’’ ان معذور افراد کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ ایسے معذور جو چلنے پھرنے کے بالکل قابل نہیں رہے، انہیں 40موٹر ویل چیئر زفراہم کئی جارہی ہیں جن سے ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ سکے گی‘‘

واضح رہے 1979ء میں افغان جنگ سے متاثر ہونے والے پناہ گزین سرانان کے کیمپ میں مقیم ہیں۔ ادارے نے پہلے مرحلے میں یہ منصوبہ صرف افغان پناہ گزینوں کے لیے بنایا ہے جبکہ بعد میں اسے وسعت دینے کا پروگرام ہے۔

بلوچستان میں سماجی بہبود کے ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مسرت جبین کے مطابق اقوام متحدہ کےپناہ گزینوں کے ادارے کے تعاون سے ان کا محکمہ معذور افراد کو مصنوعی اعضاء فراہم کررہا ہے۔ اب اس منصوبے کے تحت افغان کیمپ سے آنے والے افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

بلوچستان میں قائم بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاٰء کی تیاری کا عمل

بلوچستان میں قائم بحالی کے مرکز میں مصنوعی اعضاٰء کی تیاری کا عمل

مسرت جبین نے بتایا’’ او پی پی سی سینٹر میں معذور افراد کے لیے جدید مشینری کے ذریعے مصنوعی اعضاء تیار کئے جا رہے ہیں۔ اس ادارے میں پہلے لکڑی کے مصنوعی اعضاء بنائے جاتے تھے جو کافی بھاری تھے لیکن اب یو این ایچ سی آر کے تعاون سے پلاسٹک کے اعضا ءبنائے جا رہے ہیں، جبکہ زیادہ معذور افراد کو ویل چیئر ز بھی فراہم کی جارہی ہیں‘‘

یو این ایچ سی آر اور اسکے معاون تنظیموں نے سرانان کے علاقے میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک ماہ قبل سروے کرایا اور عمائدین سے معذور افراد کے بارے میں معلومات او ر تجاویز بھی حاصل کیں ۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG