رسائی کے لنکس

امریکی وسط مدتی انتخابات:ووٹروں کوراغب کرنے کی کوششیں

  • جم میلون

امریکی وسط مدتی انتخابات:ووٹروں کوراغب کرنے کی کوششیں

امریکی وسط مدتی انتخابات:ووٹروں کوراغب کرنے کی کوششیں

2008 میں سینیٹر براک اوباما نے امریکہ کی صدارت کا انتخاب بڑی حد تک اس لیے جیتا تھا کیوں کہ نوجوانوں، اقلیتوں، عورتوں اور غیر جانبدار ووٹروں نے بڑی تعداد میں ان کے حق میں ووٹ ڈالے تھے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کو ایک بار پھر ان ہی گروپوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا چاہیئے تا کہ وہ انتخاب کے روز ووٹ ڈالنے جائیں۔ صرف اسی طرح ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں کو امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخاب میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ صدارتی انتخاب کے مقابلے میں، وسط مدتی انتخاب میں عام طور سے نسبتاً کم لوگ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ جو لوگ کسی مخصوص پارٹی کے حامی ہیں، وہ ووٹ ڈالنے ضرور جائیں۔ اس سال قرائن سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ریپبلیکنز اپنے امید واروں کے لیے جو ش و جذبے سے بھر پور ہیں، خاص طور سے ٹی پارٹی کی قدامت پسند عوامی تحریک بہت سرگرم ہے۔

ان حالات کے پیش نظر ، صدر براک اوباما اب کافی وقت اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کے درمیان صرف کر رہے ہیں تا کہ ، خاص طور سے نوجوان ووٹرز جنھوں نے دو سال قبل مسٹر اوباما کو انتخاب میں فتح یاب کیا تھا، 2 نومبر کو ووٹ دینے کے لیے آئیں۔

صدر نے حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے ایک کانفرنس کال میں یونیورسٹیوں کے صحافت کے طالب علموں کو خطاب کیا ۔ انھوں نے کہا’’آپ خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ آپ یہ نہیں کر سکتے کہ آپ دس سال میں ایک مرتبہ کسی اہم صدارتی انتخا ب میں سرگرم ہو جائیں اور پھر کسی بڑے وسط مدتی انتخاب پر کوئی توجہ نہ دیں جس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کے درمیان سخت مقابلہ ہو رہا ہے ۔‘‘

رولنگ اسٹون میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر اوباما کا لب و لہجہ اور بھی زیادہ سخت تھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کا انتخاب سے لا تعلق ہو جانا نا قابلِ معافی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہو گا۔

رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹس کو اپنے حامیوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے خاص طور سے اس لیے بھی کہ ریپبلیکنز کا خیال ہے کہ وہ ایوانِ نمائندگان اور شاید سینٹ پر بھی کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔

ریاست کیلی فورنیا کے نمائندے کیون مکارتھی ان کئی ریپبلیکنز میں شامل تھے جنھوں نے کانگریس کے لیے اپنے ایجنڈے ’’پلیج ٹو امریکہ‘‘کی نقاب کشائی کے موقع پر تقریر کی۔ اس ایجنڈے میں ٹیکسوں میں کمی اور سرکاری اخراجات میں تخفیف کے لیے کہا گیا ہے ۔انھوں نے کہا’’60 فیصد سے زیادہ امریکیوں کا خیال ہے کہ ہمارا ملک غلط سمت میں جا رہا ہے ۔ان کا خیال صحیح ہے۔پلیج ٹو امریکہ ہماری حکومت کا ایجنڈا ہے جس کے ذریعے ہم ملک کو صحیح راستے پر ڈالیں گے۔‘‘

اب تک جو سروے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریپبلیکنز نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ ڈیموکریٹک ماہرین صدر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اقلیتی ووٹروں، نوجوان ووٹروں اور خواتین ووٹروں کو جن کا رجحان عموماً ڈیموکریٹک امیدواروں کی طرف ہوتا ہے، انتخاب کے دن ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ سرگرمی سے کوشش کریں۔

ڈیموکریٹک پولسٹر Celinda Lake کہتی ہیں کہ ڈیموکریٹس کو اگلے چند ہفتوںمیں انتخابات میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے صدر اوباما اور نائب صدر جو بائڈن پر انحصار کرنا ہو گا۔’’ڈیموکریٹک ووٹروں میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لیے یہ بڑی مضبوط ٹیم ہے ۔ اچھا تو یہ ہو کہ صدر کو انتخابات تک واشنگٹن سے باہر بھیج دیا جائے کیوں کہ وہ ووٹروں کو قائل کرنے کاکام نہایت اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں۔ وہ اقتصادی منصوبے کی وضاحت کر سکتے ہیں اور ڈیموکریٹس میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔‘‘

لیکن اس سال ڈیموکریٹس میں جوش و جذبہ پیدا کرنا خاصا مشکل کام ہو گا۔ عام لوگوں کی نظر میں معیشت کی حالت خراب ہے اور اس کا اظہار صدر اوباما کی مقبولیت کی شرح میں مسلسل کمی سے ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ، قدامت پسند اور آزاد خیال کارکن ٹی پارٹی کی تحریک کے پرچم تلے متحد ہو گئے ہیں۔ وہ ووٹروں پر زور دے رہے ہیں کہ صدر کی اقتصادی پالیسیوں اور کانگریس میں ڈیموکریٹک اکثریت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا جائے۔جان فورٹیئر واشنگٹن میں امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’عام طور سے، میرے خیال میں ٹی پارٹی کی وجہ سے ریپبلیکنز کے لیے ماحول خاصا سازگار ہو گیا ہے ۔معیشت اور حکومت کے چھوٹے سائز پر توجہ، ریپبلیکن پارٹی کے حق میں جاتی ہےاور جوووٹر اپنے امیدواروں کی حمایت میں باہر نکلیں گے، وہ انہیں فتح سے ہمکنار کر دیں گے۔‘‘

اس سال کی انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں دونوں پارٹیاں کروڑوں ڈالر خرچ کریں گی۔ انہیں امید ہو گی کہ وہ اپنے حامیوں کو دو نومبر کے دن پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کر سکیں گی۔

XS
SM
MD
LG