رسائی کے لنکس

الوداعی کلمات ادا کرتے ہوئے، بینر نے جذباتی انداز سے کہا کہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ’مجھے نہ تو کوئی پچھتاوا ہے، ناہی سر پر کوئی بوجھ‘۔ عہدے کے آخری ایام کے دوران، اُنھوں نے حکومتی اخراجات کے ایک نئے منصوبے کو آگے بڑھایا

امریکی ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو ایک معروف کنزرویٹو اور وسکونسن سے رکن کانگریس، پال رائن کو ایوان کے نئے اسپیکر کے طور پر منتخب کر لیا۔

ووٹنگ میں ایوان میں پارٹی کے عدد کے لحاظ سے ووٹ پڑے، اور یوں ریپبلیکن اکثریت والے ایوان نمائندگان نے 45 برس کے رائن کو منتخب کیا، جو کانگریس کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوں گے۔ ایوان کے اسپیکر کے طور پر وہ واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں طاقتور ترین فرد بن جائیں گے، جو صدرات کے بعد دوسرا بڑا عہدہ ہے۔

رائن، جان بینر کی جگہ لے رہے ہیں، جو اوہائیو سے 25 برس تک کانگریس کے رُکن رہے، جن میں سے آخری پانچ سال کے دوران وہ ایوان کے اسپیکر رہے۔ الوداعی کلمات ادا کرتے ہوئے، بینر نے جذباتی انداز سے کہا کہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ’مجھے نہ تو کوئی پچھتاوا ہے، ناہی سر پر کوئی بوجھ‘۔ عہدے کے آخری ایام کے دوران، اُنھوں نے حکومتی اخراجات کے ایک نئے منصوبے کو آگے بڑھایا۔
رائن پچھلے 17 برس سے ایوان کے رکن منتخب ہوتے آئے ہیں، اور آج اس عہدے پر پہنچے ہین۔ وہ ملک میں ایوان کے 54ویں اسپیکر ہیں۔

اُنھوں نے چیمبر کے منقسم ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں سے حالات کو سنبھالا دینے کے لیے کہا۔ پالیسی اور اخراجات کے معاملے پر وہ اکثر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایوان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ہم مسائل حل نہیں کر رہے۔ ہم اُن میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں‘۔

رائن نے عہد کیا کہ تمام قانون ساز مقننہ کے کام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رائن نے قانون سازوں سے کہا کہ ’اگر آپ کے ذہن میں کوئی نیا خیال ہو تو سامنے لائیں، آئیں ایک دوسرے کو سنیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندر بہتر سمجھ بوجھ سے ہماری سوچ میں بہتری آئے گی‘۔

XS
SM
MD
LG