رسائی کے لنکس

یہ بات امریکی قیادت والے اتحاد کے ترجمان، کرنل اسٹیو وارن نے بدھ کے روز بتائی۔ ترجمان نے بتایا کہ اتوار سے اب تک مشرقی شام میں کیے گئے فضائی حملوں میں تیل کے 116 ٹینکر تباہ کیے گئے

پینٹاگان نے داعش کی تیل کی ٹرکوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، کیونکہ، بقول اُس کے، شدت پسندوں کے زیر کنٹرول تیل کی تنصیبات پر فضائی حملے ’محض کم ہی مؤثر ثابت ہوئے ہیں‘۔

یہ بات امریکی قیادت والے اتحاد کے ترجمان، کرنل اسٹیو وارن نے بدھ کے روز بتائی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اتوار سے اب تک مشرقی شام میں کیے گئے فضائی حملوں میں تیل کے 116 ٹینکر تباہ کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی طیاروں نے مطبوعہ کاغذ کے ٹکڑے گرائے جس میں ٹرک ڈرائیوروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ٹرکوں کو چھوڑ کر دور چلے جائیں۔ وارن نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ڈرائیوروں کا تعلق داعش ہی سے ہو۔
بقول اُن کے، ’زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ شہری ہیں۔ اس لیے ہمیں اُن کے بچاؤ کا راستہ نکالنا پڑا۔ ہم سولینز کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے۔ ہم داعش کے گروپ کو روکنا چاہتے ہیں‘۔

وارن نے کہا کہ داعش کی تیل کی تنصیبات پر فضائی حملے زیادہ کامیاب نہیں ہوئے، کیونکہ، بقول اُن کے، شدت پسند بہت جلد نقصان کی تلافی کر لیتے ہیں۔

اپنی کارروائیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے داعش تیل کی ناجائز آمدن کا سہارا لیتا ہے۔

وارن نے شام میں روسی فضائی حملوں پر نکتہ چینی کی، کیونکہ یہ عمومی طور پر اہداف کی پرواہ کیے بغیر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے، بقول اُن کے،’کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوگی اگر اس سے شہری ہلاک ہوتے ہیں‘۔
وارن نے کہا کہ ، ’یہ صورت حال تبھی ہوسکتی ہے جب ضروری آلات حرب نہ ہوں یا ٹیکنالوجی، مہارت یا صلاحیت موجود نہ ہو‘۔

XS
SM
MD
LG