رسائی کے لنکس

امریکی وسط مدتی انتخابی نتائج خارجہ پالیسی کو متاثر کرسکتے ہیں


امریکی وسط مدتی انتخابی نتائج خارجہ پالیسی کو متاثر کرسکتے ہیں

امریکی وسط مدتی انتخابی نتائج خارجہ پالیسی کو متاثر کرسکتے ہیں

دو نومبر کو امریکی ووٹرز ایک نئی کانگریس منتخب کریں گے اور رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ اس مرتبہ کا اہم ترین مسئلہ معیشت ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی وسط مدتی انتخابات کے لیے اہم مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر ری پبلیکنز کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو اگلے دو سال کے لیے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

ممکنہ طور پر انتخابات کا فیصلہ معیشت کی بنیا پر ہو گا۔ ووٹروں کی توجہ افغانستان کی جنگ پر نہیں ہے۔ مگر صدر اوباما وہاں سے اگلے سال کے وسط سے فوجیوں کی واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ وہ کئی بار یہ یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان سے فوجوں کو واپسی کا سلسلہ اور اس کی رفتار کا تعین وہاں کی صورتِ حال کو دیکھ کر کیاجائے گا، مگر افغانستان کے لیے امریکہ کی مدد جاری رہے گی۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں یہ مرحلہ ضرور شروع ہو گا کیونکہ غیر معینہ مدت کی جنگ نہ توامریکہ اور نہ ہی افغان عوام کے مفادات پورے کرے گی۔

افغانستان اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں سب سے اہم ہے۔ کیونی پیاک یونیورسٹی کے پیٹر براؤن رائے عامہ کے جائزے مرتب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی افواج کی ہلاکتوں میں اضافے کے باوجود امریکہ میں جنگ کی حمایت برقرار ہے۔ ان کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ جو لوگ صدر اوباما کی جنگ حکمتِ عملی کی حمایت کرتے ہیں وہ ری پبلکن اور قدامت پسند ہیں جو شاید ان کے کسی اور ایجنڈے کی حمایت نہیں کریں گے۔

اگر ری پبلکنز ان انتخابات میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ایک محدود مدت کے لیے افغان جنگ کی حمایت مضبوط ہو جائے گی۔ امریکن یونیورسٹی کے ایلن لیچ مین کہتے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس نے فوجوں کی واپسی پر زور دیا تو اس سے کانگریس میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلاف بھی پیدا ہو سکتاہے کیونکہ اگر ری پبلکن پارٹی اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو صدر اوباما کے لیے یہ آسان ہو جائے گا کہ وہ افغان جنگ کو جاری رکھ سکیں۔مگر یہ بھی ہو سکتاہے کہ ان کے لیے فوجوں کی واپسی کا سلسلہ شروع کرنا مشکل ہو جائے۔

کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ان قد امت پسندوں کے ہاتھ مضبوط کر دے گی جو صدر اوباما پر ایران کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ جس میں فوجی آپریشن بھی شامل ہے۔ ہینری ناؤ کا تعلق قدامت پسند تھنک ٹینک ہیرٹیج فاونڈیشن سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید پابندیاں ایران کو ایٹمی پروگرام روکنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتیں۔ اگر صدر اوباما نے یہ پالیسی برقرار رکھا تو ایران مسائل پیدا کرتا رہے گا۔

کانگریس میں زیادہ قدامت پسند آوازوں کا مطلب ہوگا کہ صدر اوباما پر روس، چین اور شمالی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے لیے زور دیا جائے گا۔ ایلن لیچ مین کہتے ہیں کہ ری پبلکنز کی قوت بڑھ جائے گی اور وہ صدر اوباما پر دباو ڈالیں گے کہ وہ صدر جارج ڈبلیو بش جیسے ہو جائیں۔ یعنی زیادہ یک طرفہ، سخت اور فوجی طاقت استعمال کرنے کے حامی۔

ری پبلکن اکثریت کا سب سے پہلا اثر روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی کمی پر ہونے والے نئے معاہدے پر ہو سکتاہے۔ سینیٹ سے کسی بھی قسم کی پابندی منظور کرانے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور حالات غیر یقینی ہیں۔

XS
SM
MD
LG