رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی امیدوار اور پاکستان

  • کیرولین پرسوٹی
  • ندیم یعقوب

امریکی صدارتی امیدوار اور پاکستان

امریکی صدارتی امیدوار اور پاکستان

وہائٹ ہاؤس سے کچھ ہی فاصلے پرری پبلیکن پارٹی کی طرف سے امریکہ کی صدارتی دوڑ میں اترنے کے خواہشمند امیدواروں کے درمیان ہونے والے گرما گرم مباحثے کی بحث کا موضوع تھا امریکہ کی خارجہ پالیسی ۔ مگر واشنگٹن کے قدامت پسند تھنک ٹینک ہیری ٹیج فاؤيڈیشن کے تجزیہ کار جم کیرافانوکہتے ہیں کہ جب ان میں سے کوئی وائٹ ہاؤس تک پہنچے گا تب تک عالمی صورتحال بدل چکی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بحث میں اہم چیز یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان امیدواروں کی شخصیت کیا ہے۔ وہ کس طرح کے کمانڈر ان چیف ثابت ہونگے۔ کیا وہ درست راستے کی بجائے آسان راستے کا انتخاب کریں گے؟

بحث کے دوران ٹیکساس کے گورنر رک پیری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پاکستان کو تب تک امداد نہیں دیں گے جب تک وہ اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا۔

ان کا کہناتھا کہ باربار کے تجربوں کے بعد پاکستان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب تک یہ واضح نہیں کرتے کہ انہیں ہمارے مفادات کا خیال ہے میں انہیں ایک پائی کی امداد نہیں بھیجوں گا۔

مگر منی سوٹا کی رکن کانگرس مشیل باکمین کا جواب میں کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محفوظ بنانے اور اسے ایک اتحادی بنائے رکھنے کے لئے اسے امداد دینا ناگزیر ہے۔

ان کا کہناتھا کہ میرا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے ناکام نہیں ہوسکتا۔

غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرچ نے بحث کے باقی شرکا ءسے مختلف راہ اختیار کی اور کہا کہ اس مسئلے کو ہمدردانہ انداز سے دیکھنا ہوگا۔ اس ہفتے کے رائے عامہ کے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گنگرچ کوپہلی مرتبہ ری پبلیکن پارٹی کے امیدواروں میں سبقت حاصل ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ہمیں اپنی سرحدوں پر کنٹرول سخت کرنا ہوگا۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ ہمیں آجروں پر سخت جرمانے کرنے چاہیں۔

ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی اور ریاست یوٹاہ کے سابق گورنر جان ہنٹس مین کے درمیان افغان پالیسی پرٹکراؤ ہوا۔ رومنی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ صدر اوباما کو افواج کےجلد انخلا ءسے احتراز کرنا چاہیے۔

ری پبلیکن جماعت کے امیدواروں کی نکتہ چینی سے قطعہ نظر رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی صدر اوباما کی طاقت ہے

ری پبلیکن پارٹی کی صدارتی دوڑ میں اترنے کے خواہشمند امیدواروں کے لئے آئندہ چند ہفتے اہم ہونگے جس میں ان کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG