رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: پاکستان کا بیلسٹک میزائیل کا تجربہ

  • صلاح احمد

پچھلے سال امریکی انٹلی جنس کے ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے جوہری اسلحے میں توسیع کرتے ہوےٴ دنیا کی پانچویں بڑی جوہری طاقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے

پاکستان نے بدھ کو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت والے جس درمیانی مار کرنے والے بیلسٹک مزائیل کا کامیاب تجربہ کیا اُس پر ’نیو یارک ہیرلڈ ٹریبیون‘ کہتا ہے کہ یہ تجربہ ہندوستان کے اُس اگنی پانچ بیلسٹک مزائیل کی کامیاب آزمائیش کے چھ روز بعد کیا گیا ہے۔ اس میں بھی جوہری ہتھیار لے کر جانے کی صلاحیت ہے اور بیجنگ اور شنگھائی تک مار کرسکتا ہے۔

لیکن، اخبار نے پاکستانی فوجی اور دفاعی تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہےکہ ا ُن کا یہ تجربہ ہندوستانی تجربے کے جواب میں نہیں تھا۔ ان کہنا تھا کہ یہ مزائیل ایسے سابقہ مزائیلوں سے بہتر تھا، جو 620 میل کی دوری تک مار کر سکتا ہےاور اس میں شائید ایک ایسا وارہیڈ نصب تھاجو اسے مزائیلی دفاعی نظام کی زد سے محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو ہندوستان کے مقابلے میں کم سے کم لیکن ایک با اعتبار مدافعتی صلاحیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ پاکستان کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں ۔

پچھلے ہفتے کے تجربے کے وقت ہندوستانی عہدہ داروں نے کہا تھا کہ ان کے اس بیلسٹک مزائیل کو ایک متحرک پلیٹ فارم سے بھی چلایا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے اخبار کے مطابق پاکستان مین تشویش پھیل گئی تھی اور اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے عہدہ داروں شکائت کی تھی کہ ہندوستان نے انہیں اپنے اس تجربے کی پیشگی اطلاع ، نہیں دی گئی تھی۔ لیکن مزید کُچھ کہنے سے گُریز کیا تھا۔

پچھلے سال امریکی انٹلی جنس کے ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے جوہری اسلحہ خانے میں توسیع کی ہے اُس نے اس میدان میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہےاور اُس نے دنیا کی پانچویں بڑی جوہری طاقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

یہاں امریکہ میں سوشیل سیکیورٹی کا جو نظا م قائم ہے۔اس کا استفادہ تقریباً ہر گھرانہ کرتا ہے۔اور تقریباً تمام امریکی شہریوں کی زندگی کسی نہ کسی طور پر اس سے متاثّر ہوتی ہے۔ اس کا فائیدہ نہ صڑف بڑے بُوڑھوں کو پہنچتا ہے ، بلکہ معذور لوگوں اُن گھرانوں کو بھی جن کے والدین یا جن کی کفائت کرنے والوں کا انتقال ہو گیا ہو۔

اس وقت امریکہ میں اگ بھگ 16 کروڑ بر سر روزگار لوگ سوشیل سیکیورٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں جب کہ ماہوار سوشیل سیکیورٹی مراعات حاصل کرنے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ ہے۔ ان میں سے بیشتر ملازمت سے ریٹائر ہونے والوں اور ان کے خاندانوں کے افراد ہیں۔ لیکن کئی عوامل کے پیش نظر سوشل سیکیورٹی کے فنڈز میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

’بالٹی مور سن‘ اخبار نے ایک سرکاری رپور ٹ کے حوالے سے بتایا ہےکہ اس پروگرام کے لئے فنڈز2033 تک یا اس سے بھی تین سال قبل ختم ہو جائیں گے۔ اخبار کہتا ہے کہ فوراً دیوالہ ہونے کا تو خطرہ نہیں لیکن اس نے اس کا جلد حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اخبار کہتاہے کہ اس مسئلے کی وجوہات میں ایک تو آبادی میں بڑے بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہے اور دوسرے اگلے وقتوں کے مقابلے میں فی زمانہ امریک زیادہ لمبی عمریں پانے لگے ہیں۔ نتیجتہً سابقہ نسلوں کے مقابلے میں سوشیل سیکیورٹی فنڈز میں سے زیادہ افراد ہونے کی وجہ سے زیادہ پیسہ نکالا جائے گا۔ اسی طرح ، اخبار کہتا ہے، میڈی کییئر یا صحت کی نگہداشت میں اس وجہ سے اور بھی بُرا حال ہے کہ امریکہ میں علاج پر اُٹھنے والے اخراجات میں بُہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے، یہاں تک کہ بڑے بوڑھوں ک صحت کی نگہداشت کے لئے مختص رقم کا بیشتر حصہ 2024 تک ختم ہو جائے گا ۔جس کی وجہ سے بڑے بوڑھوں کی مراعات میں 25 فی صد کی کٹوتی کرنی پڑے گی۔اخبار کہتا ہے کہ سیاست دانوں کو اُس گھڑی کا انتظار کئے بغیرنا گزیر اصلاحات نافذ کرنےکے لئے قدم اُٹھانے چاہئیں۔

اور اب’ نیو یارک پوسٹ‘ کی یہ اطلاع کہ جنوبی افریقہ کی ایک فضائی کمپنی نے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئئے چار بیویوں والے شوہروں کے لئے کرایوں میں رعائت کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق اگر ایسے شوہر داروں بیویوں کے ساتھ سفر کریں تو اس کی چوتھی بیوی سے کرایہ نہیں لیا جائے گا اخبار کہتا ہے کہ یہ سٹنٹ ، جسے اپریل کے آخر تک چلایا جائے گا۔ ایسے وقت آیا ہے جب جنوبی افریقہ کےصدر جیکب زُوما نے چوتھی شادی رچائی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG