رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: مصر میں نئے آئین کی منظوری


مصر کے صدر محمد مرسی

مصر کے صدر محمد مرسی

صدر مرسی کو محض اسرائیل کی یقین دہانی کرانے کا چیلنج درپیش نہیں۔ اُنھیں عیسائی اوردوسری اقلیتوں کو یہ ثبوت بھی فراہم کرنا ہے کہ مصر کی اسلامی حکومت اُن کی آزادیوں کا تحفظ کرے گی

’ لاس انجلس ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ مصر میں فوج اور سیاسی لیڈروں کے مابین ایک نئے آئین کی منظوری اور مزید پارلیمانی انتخابات کے بعد بھی کشمکش جاری رہے گی۔ترکی کی طرح، مصر کی فوج بھی اپنے آپ کو قومی سلامتی اور اور جدیدیت کا محافظ سمجھتی ہے۔اِس کا مصر کی معیشت میں بھی بھاری عمل دخل ہے۔ لیکن، کم از کم فی الوقت فوجی جنرلوں نے ایسی کسی کوشش کو ترک کر رکھا ہے جس کا مقصد صدر مرسی کو نام کے سربراہ کی سطح پر لایا جائے۔

جہاں حد تک مسٹر مرسی کا تعلق ہے ،اُنھیں اصرار ہے کہ مصر اسرائیل کے ساتھ معاہدے سمیت اپنے فرائض پورے کرے گا اور جب اسرائیل کی سرحد کےقریب شدّت پسندوں نے 16 مصری فوجی ہلاک کر دئے تو صدر مرسی نے اپنے انٹلی جنس کے سربراہ کو برطرف کر دیا اور اب وہ مصری فوج کے تعاون اور امریکہ کے ساتھ مل کر نئے اقدامات کر رہے ہیں، تاکہ، لاقانونیت کے شکار صحرائے سینا کے علاقے میں شدّت پسندوں پر قابو پایا جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر مرسی کو محض اسرائیل کی یقین دہانی کرانے کا چیلنج درپیش نہیں ۔ اُنھیں عیسائی اوردوسری اقلیتوں کے لئے یہ ثبوت فراہم کرنا ہے کہ اُن کی اسلامی حکومت اُن کی آزادیوں کا تحفظ کرے گی ۔ نئے مصر کے بارے میں اگر تصوّر قائم ہوا کہ وہ تشدّد سے غافل ہے اور شدّت پسندوں کی چشم پوشی کر رہا ہے۔ تو اس کے نتیجے میں مصر کے لئے نہ صرف امریکی مالی امداد ، بلکہ غیر ملکیوں کی سیاحت اور سرمایہ کاری کے سوتے بھی سُوکھ جائیں گے، جس پر مصری معیشت کا اتنا انحصار ہے۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:


اخبار کہتا ہے کہ چونکہ امریکہ نے مبارک کو اقتدار سے علیٰحدہ کرنے کی بڑی تاخیر سے حمائت کی تھی، اِس لئے اس کا مصر کے نئے سویلین لیڈروں کے اندر اتنا اثرو نفوذ نہ ہو جتنا کہ اُس کی فوج کے اندر ہے۔

لیکن، جب صدر مرسی اگلے ماہ امریکہ کے دورے پر آئیں گے تو صدر اوباما کو جس
بات کو زور دے کر ان پر واضح کر نا چاہئیے اورجس کا شائد مسٹر مرسی کو بھی احساس ہے،وہ یہ ہے کہ اگر مصر کو خوشحال ہونا ہے تواسے نہ صرف جمہوریت کا پابند ہونا پڑے گا۔ بلکہ، فرد کے حقوق کا احترام کرنا پڑے گا۔

’شکاگو سن ٹائمز‘ کے ایک اداریے میں ایران کے جوہری پروگرام میں جاری پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ پہلے اس کے بارے میں جو خیال کیا جارہا تھا یہ پیش رفت حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہے ، اور اب یہ بھی سُننے میں آرہا ہے کہ دنیا جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کے ساتھ چل سکتی ہے اور یہ کہ جوہری اسلحے والے ایران کو روکا جا سکتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ سوچ خطرناک ہے جسے امن کے اتنے بڑے حامی یعنی صدر براک اوباما نے مسترد کیا ہے۔ امن کا نوبیل انعام پانے والے اس لیڈر نے عراق کی جنگ کو ختم کیا ہے اور اب وہ ذمّہ دار طریقے سے افغانستان کی جنگ بھی ختم کر رہے ہیں، تاکہ کہیں /11/9جیسا ایک اور حملہ نہ ہو جائے۔ صدر اوباما کو ایک اور جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکں انہوں نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں اُن کی پالیسی باز رکھنے والی پالیسی نہیں ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ 33 سال قبل تہران میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے ایران کے حکمران ملّا اس عزم پر قائم ہیں کہ اپنے انقلاب ، نظرئے اور اثرو نفوذ کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلادیا جائے۔ کیا جوہری ہتھیار انہیں وہ ڈھال فراہم کریں گے جس کے پیچھے سے وہ اپنے ایجنڈے کو زیادہ دیدہ دلیری کے ساتھ پھیلا سکیں گے۔ اِن ملاؤو ں نے ایک سے زیادہ مرتبہ آبنائے ہُرمُز میں گڑ بڑ کرنے کی دہمکی دی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی رسد کا ایک تہائی گذرتا ہے۔ سوال یہ ہے ٴ کہ اقتصادی تعزیرات لگنے کی صورت میں اس جوہری ڈھال کے ہوتے ہوئے کیا تہران کے عسکریت پسندوں کو رسد کے اِس اہم راستے میں خلل ڈالنے کی تحریص ہوگی۔

اخبار کہتا ہے کہ لبنان اور غزّہ کی پٹی سے جو دسیوں ہزاروں راکیٹ اور مارٹر گولے اسرائیل پر اب تک گرائے جا چکے ہیں،وہ زیادہ تر ایران ہی سے فراہم کئے گئے تھے ، کیا جوہری ڈھال کا یہ مطلب اُنہیں اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کی صورت میں ہوگا۔

’یو ایس ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 74 فیصد امریکیوں کی یہ رائے ہے کہ ووٹروں کے لئے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ فوٹو والا شناختی لارڈ استعمال کریں۔ اس کے مطابق، لوگوں کی اکثریت کو ووٹ ڈالنے میں فراڈ کی زیادہ فکر ہے ،بہ نسبت اِس کے کہ بعض مستحق لوگ ووٹ دینے ے حق سے محروم نہ ہو جائیں۔ اخبار کا خیال ہے کہ رواں سال کے صدارتی انتخابات میں فراڈ کا امکان ہے، لیکن جعلی ووٹروں کی شکل میں نہیں۔

اِس کی تحقیق کرنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں ووٹنگ سسٹم ناکام ہونے کا اندیشہ ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ اِس قسم کے مسائل ہر انتخاب میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن اِن میں کسی سیاسی پارٹی کی تخصیص نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG