رسائی کے لنکس

’جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہےکہ عراق کےایک آمر کی جگہ ایک دوسرے آمر نے سنبھال لی، جس کے نظام حکومت پر جمہوریت کا محض ملمّع چڑھا ہوا ہے، اور ملک پر ایران کا اثرو نفوذ بڑھتا چلا جا رہا ہے‘: نیو یارک ٹائمز


’نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ عراق کی جنگ دس سال قبل شروع ہوئی تھی، لیکن یہ ابھی تک امریکہ کے اعصاب پر سوار ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ اس میں اُس کے 4500فوجیوں کی جانیں گئیں، 30000 امریکی زخمی ہوئے اور جنگ کے اخراجات اور تعمیر نو کے کاموں پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ جنگ کے باعث امریکی بجٹ خسارے میں زبردست اضافہ ہوگیا، اور، اس طرح، اس کا بھی اندازہ ہوگیا کہ امریکی قیادت اور طاقت کی بھی حدُود ہیں۔

عراق میں بھی یہی کُچھ محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگرچہ، سرکاری طور پر اس کا کبھی تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عراق کے ایک آمر کی جگہ ایک دوسرے آمر نے سنبھال لی، جس کے نظام حکومت پر جمہوریت کا محض ملمّع چڑھا ہوا ہے، اور ملک پر ایران کا اثرو نفوذ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

اخبار یاد دلاتا ہے کہ سنہ 2003 میں صدر جارج ڈبلیو بُش نے 11 ستمبر سنہ2001 کے دہشت گردانہ حملوں کو بہانہ بنا کر حفظ ماتقدّم کے طور پر صدام حُسین اور اُن کے اُس اسلحہ خانے پر دھاوا بول دیا، جس کا کہ سرے سے وجُود ہی نہیں تھا۔ اُس وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ عراق کو جمہوریت اور استحکام کا ایک نمونہ بنایا جائے گا۔ لیکن، باوجودیکہ صدام حسین سے جان چُھڑانے پر کسی کو افسوس نہ ہوگا، اُس کے بعد کا عراق ایک کمزور ملک ہے جہا ں سُنیوں اور شیعوں کے درمیان اور عربوں اور کُردوں کے درمیان اِتنی سخت کشیدگی موجود ہے کہ خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے اور ملک ٹوٹ سکتا ہے۔

اِس کے باوجود، اخبار کہتا ہےکہ بُش انتظامیہ کے جن عہدہ داروں نے ملک کو اس جنگ میں جھونکا تھا، اُن میں سے کسی کا بھی ان حماقتوں کے لئے احتساب نہیں کیا گیا ہے۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ صدر اوبامہ اوّل روز سے اِس جنگ کے خلاف تھےاور اُنہوں نے اس کو ختم کرنے پر پورا زور لگایا اور سنہ 2011 میں وہاں سے فوجیں ہٹا لیں۔

اخبار کہتاہے کہ عراق کی مثال سے سیاست دانوں کو یہ سبق ملتا ہےکہ نظریاتی اور جذبات کی رو میں بہ کر فوجی کاروا ئی کی اجازت دینے سے پہلے انہیں دیانت داری سے صحیح سوالات اُٹھانے چاہئیں اور اُن کا جواب سننا چاہیئے۔

اخبار کہتا ہے کہ عراق سے جو سبق سیکھے گئے تھے لگتا ہے کہ ایران کے معاملے میں اُنہیں بُھلا دیا گیاہے۔ اور جن بُہت سے قدامت پسند وں نے عراق پر چڑھائی کرنے کی پُر زور حمائت کی تھی ، اب وُہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کے تیار ہیں تاکہ اسے جوہری بم بنانے سے روکا جائے۔

آخر میں، ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ عراق کی جنگ ہر اعتبار سے غیر ضروری تھی۔ اس پر بہت زیادہ لاگت آئی اور اس سے بہت زیادہ نُقصان ہوا۔ اس کی بنیاد ناقص انٹلی جنس تھی جسے نظریاتی اسباب کی خاطراستعمال کیا گیا۔ اور پچھلے 10 سال کے دوران انسانی جانوں اور اقتصادی ذرایع کی صُورت میں جو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے، اُس کا دوبارہ کبھی اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔

صدر براک اوبامہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں، جس دوران وُہ فلسطینی شہر بیت الّلّحم بھی جائیں گے۔

لیکن، ’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ فلسطینی عوام کو اس دورے سے کوئی توقّعات نہیں ہیں، بلکہ اس پر بُہت شکوک و شُبہات ہیں۔

اخبار کے نامہ نگار جوئل گرین برگ نے اس فلسطینی شہر سےایک مراسلے میں بتایا ہے کہ وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدور آتے اور جاتے رہے ہیں اور اُن کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ مغربی کنارے پر اسرائیل کی گرفت اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ یہودی بستیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور افق پر کسی ایسے سیاسی حل کی کوئی علامات نہیں ہیں جس کی بدولت فلسطینیوں کو آزادی نصیب ہو۔

ایک فلسطینی وکیل اوسامہ درویش نے جمعے کے روز مسٹر اوبامہ کی اس شہر میں آمد سے پہلے نامہ نگار کو بتایا کہ فلسطینی نااُمیدی حد تک پہنچ چُکی ہے۔ اپنی پہلی میعاد صدارت میں اوبامہ امن کا موقع فراہم کرنے میں ناکام رہےاور اُن کے موجودہ دورے سے فلسطینی مسئلے کے بنیادی حل کی طرف پیش رفت کی کوئی اُمید نہیں۔ درویش نے اس دورے کو ایک سیّاح کے دورے سے تعبیر کیا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسٹر اوبامہ رملّہ میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عبّاس سے ملاقات کریں گے، فلسسطینیوں کو اس بات کا پُورا احساس ہے کہ امریکی صدر کی پُوری توجّہ اسرائیل کے دورے پر مرکُوز ہے، جہاں ان کے دورے کا بیشتر وقت گُزرے گا۔

امریکی عہدہ داروں کے اِن بیانات نے کہ مسٹر اوبامہ کوئی امن منصوبہ نہیں پیش کریں گے فلسطینیوں کی اِن اُمّیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ ان کے دُوسرے دورے کے نتیجے میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہتر ہو جائیں گے، جو مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر پر تنازعہ کی وجہ سے تعطّل کا شکار ہیں۔

فلسطینی عہدہ داروں کا کہناہے کہ جب تک امریکی صدر کے دورے کے بعد سفارتی سطح پر بھر پُور کوشش نہ کی جائے، اسرائیلیوں یا فلسطینیوں کے ساتھ ان ملاقاتوں کا نتیجہ نئے اور ٹھوس امن مذاکرات کی شکل میں نہیں نکلے گا۔ البتہ، صدر محمود عبّاس کے ایک مشیر اور مذاکرات کار صائب ارکات کا کہنا ہے کہ اپنی دوسری میعاد صدارت میں صدر اوبامہ کا کسی اور کے پاس کے جانے سے پہلے ہمارے پاس آنے کا فیصلہ دو مملکتوں والے حل کے ساتھ اُن کی وابستگی کی علامت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالآخر یہ معاملہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو خود طے کرنا ہے اور امریکی اس کو ہم پر زبردستی نہیں تھوپیں گے۔
XS
SM
MD
LG