رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: اوباما کی جیت


ٹائم اسکوائر، نیو یارک: اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت، صدارتی انتخاب میں براک اوباما کی جیت

ٹائم اسکوائر، نیو یارک: اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت، صدارتی انتخاب میں براک اوباما کی جیت

اوباما نے ایک کانٹے کےانتخابی مقابلے میں کامیابی حاصل کرکے طویل اقتصادی کساد بازاری میں گھری ہوئی اِس قوم کے شکوک رفع کردیے اور اب اُنھیں اِس امتحان کا سامنا ہے کہ آیا وہ پھوٹ کے شکار اِس نظام کے ہوتے ہوئے اپنی دوسری میعاد ِصدارت کو بامقصد بنا سکتے ہیں یا نہیں

بدھ کے امریکی اخبارات میں سب سے بڑی خبر صدر براک اوباما کی انتخابات میں زبردست کامیابی ہے اور اُن کا صفحہ ٴ اول اُن کے اِس کارنامے کی خبر کے ساتھ اُن کی مسکراتی ہوئی تصویر سے مُزَیّن ہے۔

نیو یارک سے شائع ہونے والے قدامت پسند اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ منگل کو صدر براک اوباما نے ایک کانٹے کے انتخابی مقابلے میں کامیابی حاصل کرکے طویل اقتصادی کساد بازاری میں گھری ہوئی اِس قوم کے شکوک رفع کردیے اور اب اُنھیں اِس امتحان کا سامنا ہے کہ آیا وہ پھوٹ کے شکار اِس نظام کے ہوتے ہوئے اپنی دوسری میعاد ِ صدارت کو بامقصد بنا سکتے ہیں یا نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اِس سخت انتخابی مہم کے بعد جِس میں فریقین نے ایک دوسرے پر بے رحمانہ تنقید کی مسٹر اوباما کی کامیابی جدید انتخابات کی تاریخ میں ایک اہم درجہ رکھتی ہے۔

سنہ 1940میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کےبعد بیروزگاری کی شرح سات اعشاریہ نو ہونے کے باوجود کسی برسراقتدار صدر کو دوسری بار منتخب ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوا ہے۔
سنہ 1816کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ امریکہ کو یکے بعد دیگرے تین ایسے صدور ملے ہیں جو دو مرتبہ منتخب ہوئے۔

اخبار کہتا ہے کہ چار سال قبل یکتا اتحاد کا قیام عمل میں آیا تھا جِس نے اوباما کو فتح سے ہم کنار کیا اور یہ اتحاد امریکی ووٹروں کی بدلتی ہوئی نوعیت کا عکاس ہے، خاص طور پر سفید فاموں کے گرتے ہوئے اثر و نفوذ کا اور لاطینی ووٹروں کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کا۔

ایک اور قدامت پسند اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کہتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں مزید چار سال کی میعاد صدر اوباما کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے صحت کی نگہداشت کےقانون کو مکمل طور پر نافذ کریں اور ٹیکسوں میں اضافے اور امی گریشن کے قوانین میں اصلاح کے وعدوں کو پورا کرسکیں۔

اخبار نے اِس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے لیے اِس مہم پر صدر اوباما اور اُن کے ریپبلیکن حریف مٹ رامنی نے مجموعی طور پر دو ارب ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔ کانگریس کی رکنیت کےلیے لڑنے والے امیدواروں نے جو کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں وہ اُس کے علاوہ ہیں۔

لبرل اخبار ’نیو یارک ٹائمز ‘ ایک اداریے میں لکھتا ہے کہ صدر اوباما جس ڈرامائی انداز میں دو بارہ منتخب ہوئے ہیں وہ اِس بات کی علامت نہیں ہے کہ ایک بٹی ہوئی قوم بالآخر انتخابات کے دن پھر متحد ہوگئی ہے، بلکہ یہ اوباما کی اُن اقتصادی پالیسیوں کی پُر زور حمایت کا عادہ ہے جِن کا سارا زور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صحت عامہ کی نگہداشت کی اصلاح، ٹیکسوں میں اضافے، توازن برقرار رکھتے ہوئے خسارے میں کمی کرنے اور امی گریشن کی اعتدال پسند پالیسیاں اپنانے پر ہے اور جن باتوں کو ووٹر نے ٹھکرا دیا ہے، اُن میں ریگن دور کے ٹیکسوں میں تخفیف اور ٹرکل ڈاؤن معاشی پالیسیوں کے علاوہ خوف و ہراس، عدم رواداری اور امتیازی سلوک شامل ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ووٹروں کی بھاری اکثریت نے امریکہ کی معیشت کی زبوں حالی کے لیے مسٹر اوباما کو نہیں بلکہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مسٹر رامنی کی توقعات کے برعکس ووٹروں نےبہتر اقتصادی شعور کا ثبوت دیا اور جو لوگ رہائشی مکانات کی مارکیٹ اور بے روزگاری کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے تھے، اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے مسٹر اوباما کو ووٹ دیا اور جن لوگوں کو ٹیکسوں کے بارے میں تشویش تھی اُنھوں نے بھاری تعداد میں مسٹر رامنی کو ووٹ دیا اور یہ بات اہم ہے کہ 60فی صد ووٹروں نے امیروں ہا ہر شخص پر ٹیکس بڑھانے کی حمایت کی۔

ایک اور لبرل اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ایک خصوصی اداریے میں یاد دلایا ہے کہ چار سال قبل جب براک اوباما نے عنان حکومت سنبھالی تھی تو ملک کی معیشت زوال کی طرف جارہی تھی۔ اب جب وہ دوبارہ منتخب ہوئے ہیں معیشت کی بحالی جای ہے۔ لیکن، سست روی کے ساتھ ملک کے مالی مسائل جن سے صدر نےنمٹنے کا عہد کیا تھا، ابھی تک حل طلب ہیں۔ بلکہ ، یہ مسائل چار سال کے خسارے کے بجٹ کی وجہ سے زیادہ سنگین ہوگئے ہیں۔

لہٰذا، اخبار کا مشورہ ہے کہ انتخابی کامیابی کی خوشی میں ہونے والی تقریبات کو مختصر کرکے صدر کو ٹیکسوں میں مقررہ اضافے اور اخراجات میں تخفیف کے مرحلے سے نمٹنا ہوگا، تاکہ ملک دوبارہ معاشی سرد بازاری کا شکار نہ ہوپائے ۔جو مزید چار سال اُنھیں میسر آئے ہیں، صدر کو اُنھیں اپنے پہلی میعاد صدارت کے کارناموں کو مستحکم کرنے اور ادھورا کام مکمل کرنے کے لیے وقف کرنا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG