رسائی کے لنکس

’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ یہ حملہ انتہا پسندوں کے اُس لگے بندھے طریق کار کے عین مطابق معلوم ہو رہا ہے جس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ جب بھی یہ ملک صلح صفائی کی طرف کوئی قدم بڑھانا چاہیں، تو اُسے ناکام بنا دیا جائے

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں جمعرات کو جموں کے فوجی ٹھکانوں پر اسلامی انتہا پسندوں کے دیدہ دلیری کے ایک حملے میں فوجی کرنل سمیت 12 افراد کا جو قتل عام ہوا ہے اور جس میں تینوں جواں سال حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے، اُس پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ اخبار کہتا ہے کہ یہ واقعہ نیو یارک میں ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے مابین طے شُدہ ملاقات سے کُچھ ہی دن پہلے پیش آیا ہے۔

اور اخبار کہتا ہے کہ یہ حملہ انتہا پسندوں کے اُس لگے بندھے طریق کار کے عین مطابق معلوم ہو رہا ہے جس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ جب بھی یہ ملک صلح صفائی کی طرف کوئی قدم بڑھانا چاہیں، تو اُسے ناکام بنا دیا جائے۔

اس حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ ’شُہدا برگیڈ‘ نامی ایک نسبتاً غیر معروف تنظیم نے کیا ہے۔ اس کا نام پہلی مرتبہ ستمبر میں سُننے میں آیا تھا۔ جب اُس کی جانب سے کنڈکٹر زُوبِن مہتہ کی سرکردگی میں سری نگر میں ہونے والے کلاسیکی موسیقی کے ایک کانسرٹ کے خلاف دہمکی دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق، تینوں حملہ آوروں کی عمریں 16 اور 19 سال کے درمیان تھیں، جنہوں نے پہلے ایک پولیس سٹیشن پر گرینیڈوں اور خودکار ہتھیاروں سے اچانک حملہ کر کے چار پولیس والوں اور ایک شہری کو ہلاک کیا۔ اور پھر ایک اور شخص کو ہلاک کر کے ایک ٹرک پر قبضہ کر کے ایک فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔ اور قبل اس کے کہ وہ خود مارے گئے انہوں نے ایک افسر سمیت کئی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ ہندوستانی کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ بڑی بے انصافی ہوگی اگر اس کی وجہ سے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور میان نواز شریف نیو یارک میں طے شدہ ملاقات منسوخ کردیں۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حملہ آور پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے در آئے تھے۔

’لاس انجلس ٹائمز‘ نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں وزرائے اعظم ذاتی طور پر بہتر تعلّقات کے حامی ہیں۔ لیکن، دونوں کو کٹھن سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ نواز شریف کے سخت گیر ملاؤوں کے ساتھ روابط رہے ہیں، جن میں جماعت الدعویٰ اسلامی تنظیم شامل ہے جو قریبی تعلّقات کے خلاف ہے، جب کہ دوسری جانب منموہن سنگھ کی حکمران کانگریس پارٹی ملک پر حزب اختلاف کی طرف سے برابر یہ طعنے دئے جاتے ہیں کہ وُہ کمزور اور غیر موثّر ہے۔

دہلی پالیسی گروپ نامی ادارے کے ڈئرکٹر جنرل، رادھا کمہار کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ ذاتی طور پر نواز شریف امن کے حامی ہیں۔ لیکن، یہ نہیں معلوم کہ آیا وہ اسی کو اپنا ایجنڈا بنائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان امن کا حامی ہے۔ لیکن، جب پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی بات آتی ہے تو ملک کی حزب اختلاف اس درجہ ناپختگی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ وحشت ہوتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ تجزیہ کاروں کے خیال میں وزرائے اعظم کی اس ملاقات سے کسی خاص کامیابی تو متوقع نہیں، لیکن ان کی محض ملاقات ہی دونوں ملکوں کے لئے مثبت اشارے کا درجہ رکھتی ہے۔ بھارت کو سنہ 1989 سے کشمیر میں علیٰحدگی پسند جنگجؤوں کی بغاوت کا سامنا رہا ہے۔ اور بھارت کا پاکستانی فوج پر الزام ہے کہ وہ ان جنگجؤوں کی امداد کر رہی ہے۔ لیکن، پاکستان کے سیکیورٹی کے تجزیہ کار محمود شاہ کے حوالے سے اخبار کہتا ہے کہ یہ الزام بہت پرانا ہو چکا ہے جس سے بد اعتمادی کو تقویت ملتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج، اُس کے انٹلی جنس ادارے اور سیاسی قیادت سب ہندوستان کے ساتھ تعلّقات کی حمائت میں متّفق ہیں۔ اور جس کسی نے بھی جمعرات کی صبح کو یہ حملہ کیا ہے، وہ نہ ہندوستان کا دوست ہے اور نہ پاکستان کا۔۔

’واشنگٹن ٹائمز‘ اخبار کے مطابق، شام کی 11 باغی تنظیموں نے، جن میں القاعدہ سے وابستہ ایک جماعت شامل ہے، مغرب کی تجویز کردہ مخلوط جماعت کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔ اور اس کے بدلے، اسلامی شریعت کے تحت ایک نئے شام کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اور تمام باغیوں کو اسلامی دائرہٴ کار میں رہتے ہوئے، اسد حکومت کا تخت اُلٹنے کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ امریکی قیادت میں کی جانے والی اُن کوششوں کے لئے سخت دھچکہ ہے جن کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کی جگہ ایک جمہوری متبادل کی حمائت کرنا تھا۔

اس نئے اتّحاد نے جنرل احمد صالح طُوما کی قیادت کو بھی مسترد کر دیا ہے، جنہیں شامی انقلاب کے مخلوط قومی ادارے نے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے چنا تھا۔ باغیوں کے اس اعلان سے غیر ممالک میں قائم تمام دوسری تنظیوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کی گئی ہے، جو ترکی میں قائم شامی پناہ گزینوں کی تنظیم کی طرف اشارہ ہے۔

’البو کر‘ کے جرنل کے مطابق امریکہ میں پچھلے ہفتے جتنے مزدوروں نے بیروزگاری کی امداد کی درخواستیں دائر کیں، وُہ چھ سال میں سب سے کم تھیں۔ ان کی مجموعی تعداد تین لاکھ نو ہزار تھی۔ لیبر دپارٹمنٹ کے گُذشتہ کئی ماہ کے اعداو شمار اس اعتبار سے حوصلہ افزاٴ ہیں کہ کاروباری ادارے معیشت سے مطمئن ہیں اور مزدوروں کی موجودہ سطح کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن، پالیسی ساز مزید شواہد ملنے کا انتظآر کر رہے ہیں کہ آیا بحالی کا یہ رُجحان برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔
XS
SM
MD
LG