رسائی کے لنکس

’یہ کاروائی اگر پہلے کی گئی ہوتی تو شام کے عوام کو دو سال کے مصائب نہ جھیلنے پڑتے، اور نہ ہی اس کے پڑوسی ملکوں کو پناہ گُزینوں کے سیلاب سہنے پڑتے‘: بوسٹن ہیرلڈ

شام کی خانہ جنگی میں کیمیائی ہتھیاروں کا جو استعمال ہوا ہے اُس پر’ نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ صدر اوبامہ کسی قسم کی فوجی کاروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اوبامہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ اور جیسا کہ وزیر خارجہ جان کیری کہہ چکے ہیں, اس حملے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور یہ کہ شہریوں کا بیدردانہ قتل عام، عورتوں, بچوں اور معصوم راہ گیروں کی ہلاکتیں ایسی اخلاقی پستی ہے، جسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اور جس سےانکار نہیں کیا جا سکتا، چاہے صدر بشارالاسد یا اُن کا مربّی روس باغی فوجوں پر اس کا الزام ڈالنے کی کتنی بھی کوششیں کریں۔

مسٹر کیری نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئیے کہ صدر اوبامہ کا یہ اعتقاد ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ لاچار لوگوں کے خلاف، دُنیا کے سب سے زیادہ مکرُوہ ہتھیار استعمال کرنے والوں کا لازمی طور پر احتساب ہونا چاہئیے۔
انتظامیہ کے عہدہ دار کے بقول مسٹر اوبامہ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ جوابی کاروائی کی کیا نوعیت ہونی چاہئے۔ لیکن، اس کا امکان بہت ہی کم ہے اور بلکہ یہ ایک غیر ذمّہ دارانہ حرکت ہوگی اگر مسٹر کیری کو اتنا سخت بیان جاری کرنے کی اجازت دینے کے بعد کوئی کاروائی نہ کی جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوبامہ نے پچھلے سال اگست میں یہ بیان دے کر ا پنا اعتبار داؤ پر لگا دیا تھا کہ اگر مسٹر اسد نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئے تو یہ ایک ایسی ریڈ لائن ہوگی جس کے بعد امریکہ جوابی کاروائی کرنے پرمجبور ہو جائے گا۔ اور اگر مسٹر اوبامہ نے طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو اُنہیں دکھانا پڑے گا کہ اُن کے پاس جو سفارتی متبادل تھے، ان میں ناکامی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ کے لئے سب سے اچھا طریقہ یہ ہوگا کہ سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے فوجی کاروائی کا اختیار حاصل کیا جائے۔ اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو اُنہیں عرب لیگ اور یورپی اتحاد کے ممالک کی حمائت کی ضرورت ہوگی، اور اگر فوجی کاروائی ناگُزیر ہوجائے تو اُس کا نشانہ شام کی وُہ فضائی اور فوجی یونٹیں ہونی چاہیئں، جنہوں نے یہ کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ مقصد مسٹر اسد کو کیمیائی ہتھیاروں سے اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے کی سزا دینا ہوگا، اور مزید ایک خانہ جنگی میں اُلجھنا نہیں۔

اسی موضوع پر اخبار ’بوسٹن ہیرلڈ‘ کہتا ہے کہ مارچ میں جب صدر اسد نے اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو مسٹر اوبامہ نے وکیلوں اور سائینس دانوں کو اس کا تجزیہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن، ریڈ لائن کے انتباہ کے باوجود شام کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی۔لہٰذا، اخبار کے خیال میں، یہ کوئی تعجّب کی بات نہیں کہ پچھلے ہفتے مسٹر اسد نے ایک اور کیمیائی حملہ کر دیا جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1300 تک بتائی گئی ہے۔

اور، اسی کے بعد، لگ رہا ہے کہ انتظامیہ نے اب کوئی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بالآخر وُہ سوچ رہی ہے کہ اس کی کیا شکل ہونی چاہئے۔

اخبار کے خیال میں، یہ کاروائی اگر پہلے کی گئی ہوتی تو شام کے عوام کو دو سال کے مصائب نہ جھیلنے پڑتے، اور نہ ہی اس کے پڑوسی ملکوں کو پناہ گُزینوں کے سیلاب سہنے پڑتے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی جنگی جہاز پہلے ہی سے علاقے میں موجود ہیں،جن کے پاس اسد حکومت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ ایسی کاروائی ہوگی جس کی رضامند ملکوں کے اتحاد اور نیٹو اتحادی ملکوں کی طرف سے حمائت یقینی ہے۔

دمشق کے مضافات میں کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والےاس حملے کے بارے میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں یہ وسیع پیمانے کا تیسرا بڑا کیمیائی حملہ ہے جو بہت طویل عرصے کے بعد ہوا ہے۔

مغربی عہدہ داروں کے حوالے سے، اخبار کہتا ہے کہ اگر یہ ہتھیار واقعتاً شامی حکومت نے استعمال کئے ہیں تو یہ کسی ملک میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ہونے والا سب سے بڑا کیمیائی حملہ ہے۔ 1988 ء میں صدام حسین نے شمالی عراق میں کردوں کے خلاف اعصابی گیس استعمال کی تھی۔ یہ ایسا گھناؤنا جرم تھا کہ اس کے بعد، دنیا کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی ایک باقاعدہ مہم شروع ہوئی تھی۔

پہلی عالمی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال ہوا تھا۔ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوئت یونین نے کیمیائی ہتھیاروں کے گودام کے گودام جمع کئے تھے۔ جنہیں تباہ کرنے میں دونوں کو بھاری لاگت لگانی پڑی۔ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتے پر 1997 ءمیں دستخط کئے تھے اور عہد کیا تھا کہ وہ سنہ 2012 تک اپنے تیس ہزار ٹن سے زیادہ کے کیمیائی ہتھیار تبا ہ کر دے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ یہ کام حتمی تاریخ تک مکمل نہ ہو سکا ہے، امریکی فوج اس عہد پر قائم ہے کہ ابھی ایسے جو ہتھیار محفوظ جگہوں میں موجود ہیں، انہیں بھی تباہ کر دیا جائے گا۔ا

خبار کہتا ہے کہ جن ملکوں نے اب تک کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع سے متعلق اس سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے ہیں، اُن میں انگولا، مصر، شمالی کوریا، جنوبی سوڈان اور شام شامل ہیں۔ اسرائیل نے اس پر دستخط تو کئے ہیں، لیکن اس کی توثیق نہیں کی ہے۔
XS
SM
MD
LG