رسائی کے لنکس

یوکرین، کشیدگی کے پیچھے روسی سازباز کے ’ٹھوس ثبوت‘


فائل

فائل

ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اِن پر ’بڑے سوچے سمجھے انداز سے‘ عمل کیا گیا، اس کے پیچھے ’باقاعدہ منصوبہ بندی‘ تھی، جس کے’اہداف واضح تھے‘، جِن کا مقصد 24 گھنٹےکے اندر اندر مختلف شہروں کی متعدد عمارتوں پر قبضہ کرنا تھا

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات کے ’ٹھوس ثبوت‘موجود ہیں کہ مشرقی یوکرین کے شہروں میں ہونے والی حالیہ ہنگامہ آرائی کے پیچھے، روس کا ہاتھ ہے۔

بقول اُن کے، اِن پر ’بڑے سوچے سمجھے انداز سے‘ عمل کیا گیا، اس کے پیچھے ’باقاعدہ منصوبہ بندی‘ تھی، جس کے’اہداف واضح تھے‘، جِن کا مقصد 24 گھنٹےکے اندر اندر مختلف شہروں کی متعدد عمارتوں پر قبضہ کرنا شامل تھا۔

یورپ کےلیے امریکہ کی اعلیٰ سفارت کار، وکٹوریہ نُلینڈ نے یہ بیان اُ س وقت دیا جب ایک امریکی قانون ساز نے سوال کیا آیا امریکہ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ اِس کشیدگی کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔

نُلینڈ نے بدھ کے روز ہونے والی ایک سماعت کے دوران شہادت دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں ہونے والے واقعات نیند سے بیدار ہونے کی ایک پکار ہے۔

بقول اُن کے، گذشتہ 40 برسوں کے دوران آزاد ملکوں کی برادری کی سربلندی کے لیے جو ہمارا مؤقف رہا ہے، اُسے خطرہ لاحق ہوگا اگر اِن ’جارحانہ اقدام‘ کا احتساب نہ کیا گیا، اور اِس پر سزا نہ دی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ یوکرین پر ہونے والے آئندہ چار طرفہ مذاکرات سے بڑی توقعات وابستہ ہیں، لیکن یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ مکالمے کی راہیں کھلی رکھی جائیں۔

اس سے قبل بدھ ہی کے روز، یوکرین کے وزیر داخلہ نے متنبہ کیا کہ تین مشرقی علاقوں میں روس نواز مظاہرین کے ساتھ درپیش تعطل کے معاملے کو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر اندر حل کیا جائے، مذکرات کے ذریعے، چاہے طاقت کے استعمال کے ذریعے۔

آرسن اواکوف نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب بھی سیاسی حل ممکن ہے۔

تاہم، اُنھوں نے اس بات کا عہد کیا کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین جو تنازع کی کوشش میں ہیں، بقول اُن کے، اُنھیں یوکرین کے حکام زوردار جواب دیں گے۔

روس نواز گروپوں نے مشرقی یوکرین میں متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور روس کے ساتھ شمولیت پر رائے دہی کا مطالبہ کیا ہے، جو مغربی ممالک کے لیے دوستانہ جذبات رکھنے والی عبوری حکومت کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں ایک ڈرامائی کشیدگی کا منظر پیش کر رہی ہے۔

اہل کاروں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز خارکیف میں گولیاں چلائی گئیں اور کم از کم 40 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جب کہ مظاہرین نے اتوار کو دونسک میں سرکاری دفاتر پر قبضہ جاری رکھا۔

لہانسک میں یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح سویرے، 50 سے زائد افراد کو سرکاری سکیورٹی کے ہیڈکوارٹرز سے چلے جانے کی اجازت دی گئی، جہاں روس نواز مظاہرین نے مبینہ طور پر 60 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ حکام کے مطابق، مظاہرین نے اس عمارت کے گِرد دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے۔
XS
SM
MD
LG