رسائی کے لنکس

امریکی تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے واقعات پر ایک نظر


سینڈی ہک ایلمنٹری اسکول (فائل فوٹو)

سینڈی ہک ایلمنٹری اسکول (فائل فوٹو)

ریاست کنیٹی کٹ کے سینڈی ہک ایلمنٹری اسکول میں ہونے والا فائرنگ کا واقعہ گزشتہ 15 برسوں میں امریکی تعلیمی اداروں میں قتل عام کا پانچواں بڑا واقعہ ہے۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست کنیٹی کٹ کے شہر نیو ٹاون کے سینڈی ہک ایلمنٹری سکول میں فائرنگ کا واقعہ جس کے نتیجے میں 20 بچوں سمیت 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے، گذشتہ پندرہ برسوں کے دوران امریکہ کے تعلیمی اداروں میں پیش آنے والا اس نوعیت کا پانچواں بڑا واقعہ ہے۔

قتل عام کے اس واقعے نے امریکہ بھر میں ہتھیاروں پر پابندی کے حوالے سے موثر قانون سازی کی بحث کو پھر نمایاں کر دیا ہے۔ کیونکہ اس فائرنگ میں ملوث 20 سالہ ایڈم لینزا نے جو ہتھیار استعمال کیے تھے وہ قانونی طور پر اس کی والدہ کے نام پر تھے۔

واقعہ کے بعد عوام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے صدر اوباما اور قانون سازوں پر دباؤ ہے کہ وہ امریکہ میں ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے حوالے سے موجود قوانین کو سخت کریں۔ فی الحال امریکہ میں کوئی بھی امریکی شہری بیک گراونڈ چیک کے بغیر پرائیویٹ ڈیلرز سےہتھیار خرید سکتا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جہاں طالبعلموں، دماغی طور پر بیمار یا کمزور اور کم عمر بچوں کی مہلک ہتھیاروں تک رسائی کی وجہ سے قتل عام کے واقعات ہوئے ہیں۔

امریکی تعلیمی اداروں میں ایسے وقعات پر ایک نظر ڈالیں تو سال 1997ء میں دسمبر کے مہینے کی پہلی تاریخ کو ریاست کینٹکی کے شہر ویسٹ پاڈوکا میں ہیتھ ہائی اسکول میں اسی طرح کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک چودہ سالہ لڑکے مائیکل کارنل نے اپنے ہی اسکول کے ساتھی طالبعلموں پر فائرنگ کر کے تین بچوں کو ہلاک اور 5 کو زخمی کر دیا۔

اس واقعے میں ملوث مائیکل کارنل کی دماغی حالت ٹھیک قرار نہیں دی گئی اور 1998ء میں ایک کورٹ کے فیصلے کے مطابق مائیکل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

24 مارچ 1998ء کو 14 سالہ مچل سکاٹ اور 12 سالہ اینڈریو ڈگلس نے ریاست آرکنساس کے شہر جونزبورو کے ویسٹ سائیڈ مڈل اسکول میں فائرنگ کر کے چار طلبا سمیت 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

اس واقعے میں 9 طلبا سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے میں اینڈریو اور مچل نے 7 مہلک ہتھیار استعمال کیے جن میں چار ہینڈ گنز اور 3 رائفلز شامل تھیں جنھیں انھوں نے اینڈریو کے داد کے گھر سے ایک رات پہلے چوری کیا تھا۔

اسکول کے باہر جمع ٹیچرز اور طالبعلموں پر فائرنگ کرنے کے بعد دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ مچل سکاٹ اور اینڈریو ڈگلس امریکی تاریخ میں قتل میں ملوث کم عمر ترین مجرم قرار پائے، لیکن آرکنساس کے قانون کے مطابق ان کی عمر کی وجہ سے انھیں سزائے موت یا عمر قید نہیں دی جا سکی انھیں 21 سال کی عمر تک پہنچنے تک قید کی سزا سنائی گئی۔

20 اپریل 1999ء امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر کولمبائن کے کولمبائن ہائی سکول میں اسی سکول کے دو 18 سالہ طالبعلموں ایرک دیوڈ ہیرس اور ڈیلن بےنیٹ نے فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 24 کو زخمی کردیا۔

واقعے کے فورا بعد دونوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔ یہ واقعہ کسی بھی امریکی ہائی سکول میں ہونے والا قتل عام کا مہلک ترین واقعہ ثابت ہوا جس نے امریکی سکولوں میں بچوں کو ڈرانے دھمکانے اور چھیڑنے کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں پر پابندی اور تعلیمی اداروں کی سکیورٹی پر بھی بحث چھیڑ دی۔ اس واقعے کے بعد سکولوں کی سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا اور ان میں بچوں کی تربیت کے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

16 اپریل 2007ء کو ریاست ورجینیا کے ورجینیا ٹیک انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی کیپمس میں فائرنگ کا واقعہ ہوا جس میں یونیورسٹی کے ایک 23 سالہ طالبعلم ’ سن ہو چو‘ نے دو مختلف حملوں میں 32 افراد کو ہلاک اور 17 کو زخمی کر دیا۔ چو نے حملوں کے بعد گولی مار کر خود کشی کرلی۔ تحقیقات کے مطابق سن ہو چو ذہنی طور پر بیمار تھا اور اپنے آبائی ملک جنوبی کوریا سے آٹھ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ آیا تھا اور آٹزم ( ایک دماغی بیماری ) کے علاج سے بھی گزر رہا تھا یہ واقعہ امریکہ میں کسی ایک شخص کے ہاتھوں قتل عام کا بدترین واقعہ ثابت ہوا۔

اس کے بعد جنوری 2008ء میں امریکی صدر نے ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے موجود قوانین کو سخت کرنے ایک نئے قانون پر دستخط کیے۔

حالیہ واقعے کے بعد موجودہ امریکی صدر براک اوبامہ نے بھی نائب صدر جو بائیڈن کو کانگریس کے آنے والے اجلاس میں امریکہ میں ہتھیاروں پر پابندی کے حوالے سے موثر قانون سازی کے لیے تجاویز پیش کرنے کی کی ہدایت کی ہے۔
XS
SM
MD
LG