رسائی کے لنکس

اسٹیٹ آف دی یونین، اقتصادی شعبے توجہ کا مرکز

  • ڈین رابنسن

اسٹیٹ آف دی یونین، اقتصادی شعبے توجہ کا مرکز

اسٹیٹ آف دی یونین، اقتصادی شعبے توجہ کا مرکز

توقع ہے کہ صدر وہ بات دہرائیں گے جو اُنھوں نے گذشتہ سال بار بار کہی تھی یعنی یہ کہ تعلیم، سائنسی، ٹیکنیکل ایجاد و اختراع اور ملک میں بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رکھنا کتنا ضروری ہے۔ لیکن جیسا کہ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری رابرٹ گبز نے پیر کے روز رپورٹروں کو بتایا کہ مسٹر اوباما بالکل کھری بات کریں گے اور کہیں گے کہ وفاقی بجٹ کا خسارہ کم کرنے اورطویل مدت کے لیے ملک پر واجب الادا قرض کا بوجھ کم کرنے کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنزکے درمیان تعاون ضروری ہو گا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما آج منگل کے روزاپنی سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین تقریر میں قوم سے خطاب کریں گے۔ مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنی تقریر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اورعالمی منڈیوں میں امریکہ کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سرکاری بجٹ میں خسارے اور قومی قرض کو کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔

اپنی گذشتہ سال کی اسٹیٹ آف دی یونین تقریر کے مقابلے میں اس سال صدر کو بالکل مختلف سیاسی منظر کا سامنا ہے۔ اب ایوان نمائندگان میں ریپبلیکنز کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔

گذشتہ ہفتے ایوان نمائندگان نے علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے قانون کی منسوخی کے حق میں ووٹ دیا۔ اگرچہ اس ووٹ کی اہمیت محض علامتی ہے لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ ریپبلیکنز کی جانب سے صدر کو اور ان کے ساتھی ڈیموکریٹس کو 2012ء کے عام انتخاب سے پہلے کمزور کرنے کی کوشش کی ابتدا ہے۔ صدر نے اختتامِ ہفتہ میں اپنے حامیوں کے نام ایک پیغام میں بتایا کہ ان کی اسٹیٹ آف دی یونین تقریر کا خاص موضوع یہ ہوگا کہ بے روزگاری دور کرنا اور امریکیوں کو کام پر واپس لے جانا کتنا اہم ہے’’میری تمام تر توجہ اس بات پر ہو گی کہ ہم اقتصادی شعبے میں مقابلہ کر سکیں ہماری ترقی جاری رہے، ہم روزگار کے مواقع پیدا کرتے رہیں صرف آج کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی‘‘۔

توقع ہے کہ صدر وہ بات دہرائیں گے جو اُنھوں نے گذشتہ سال بار بار کہی تھی یعنی یہ کہ تعلیم، سائنسی، ٹیکنیکل ایجاد و اختراع اور ملک میں بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رکھنا کتنا ضروری ہے۔ لیکن جیسا کہ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری رابرٹ گبز نے پیر کے روز رپورٹروں کو بتایا کہ مسٹر اوباما بالکل کھری بات کریں گے اور کہیں گے کہ وفاقی بجٹ کا خسارہ کم کرنے اورطویل مدت کے لیے ملک پر واجب الادا قرض کا بوجھ کم کرنے کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنزکے درمیان تعاون ضروری ہو گا۔ ’’ہم واشنگٹن میں اس بارے میں بحث نہیں کریں گے کہ کیا ہمیں تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور کیا ہمیں اپنے خرچ کو کنٹرول کرنا چاہیئے۔ امید یہی ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر بات چیت کریں گی اور یہ طے کریں گی کہ ہم کس طرح یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ صدر اوباما خود کو اعتدال پسند سیاست دان کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہیں اور انھوں نے گذشتہ سال ٹیکسوں اور بے روزگار لوگوں کے لیے مدد حاصل کرنے کے لیے ریپبلیکنز کے ساتھ سمجھوتے کیے، لیکن ان کا کام آسان نہیں ہوگا۔

این بی سی ٹیلیویژن پر میٹ دی پریس پروگرام میں ایوان نمائندگان میں ریپبلیکن اکثریتی لیڈر ایرک کینٹور نے کہا کہ سرمایہ لگانے کے بارے میں مسٹر اوباما کی گفتگو کا مطلب ہے مزید پیسہ خرچ کرنا جب کہ مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ سرکاری اخراجات کم کیے جائیں۔ ’’ہمیں بھی وہی کچھ کرنا چاہیئے جو اس ملک میں بہت سے گھرانے اور بہت سے کاروباری ادارے کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کم پیسہ لگا کر کس طرح زیادہ نتائج حاصل کیے جائیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم قرض اور اخراجات کی یہ سطح برقرار رکھ سکیں‘‘۔

جہاں تک ریپبلیکنزکی ہیلتھ کیئر کے قانون کو منسوخ کرنے کی کوششوں کا تعلق ہے سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ وہ اس موقع کو یہ بتانے کے لیے استعمال کریں گے کہ قانون کی منسوخی کا امریکیوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔

ڈیموکریٹک سینیٹر Charles Schumer نےسی بی ایس ٹیلیویژن پر کہا کہ ہم انہیں اس قانون کی ایسی شقوں پر ووٹ دینے کے لیے مجبور کریں گے جو بہت مقبول ہیں اور جن کے بارے میں ایوان نمائندگان کے بعض نئے ریپبلیکن ارکان نے بھی کہا ہے کہ وہ ان کے حق میں ہیں۔

اسٹیٹ آف دی یونین، اقتصادی شعبے توجہ کا مرکز

اسٹیٹ آف دی یونین، اقتصادی شعبے توجہ کا مرکز

صدر اوباما ایسے وقت میں اسٹیٹ آف دی یونین تقریر کر رہے ہیں جب عوام میں ان کی مقبولیت کی شرح کافی بہتر ہو گئی ہے۔ رائے عامہ کے کئی جاَئزوں میں ان کی مقبولیت کی شرح 50 فیصد یا اس سے کئی پوائنٹس زیادہ ہے۔

خارجہ پالیسی کے شعبے میں توقع ہے کہ صدر اوباما افغانستان کی جنگ کے بارے میں بات کریں گے اور بتائیں گے کہ کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔

وہ امریکہ کے اس عزم کا بھی اعادہ کریں گے کہ القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کو شکست دی جائے گی اور انہیں درہم برہم کر دیا جائے گا۔ امریکہ اور نیٹو نے اتفاق کیا ہے کہ 2014ء میں سیکورٹی کی تمام ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کر دی جائیں گی۔ توقع ہے کہ مسٹر اوباما افغانستان اور عراق میں امریکی فوجیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کریں گے اور اپنے اس عزم کو دہرائیں گے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اس سال جولائی میں شروع ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG