رسائی کے لنکس

امریکہ کے عالمی کردار پر متضاد رائے

  • ایلزبتھ لی

امریکہ کے عالمی کردار پر متضاد رائے

امریکہ کے عالمی کردار پر متضاد رائے

جمعہ ، 11 نومبر کو امریکہ میں ویٹرانز ڈے یعنی سابق فوجیوں کا دن منایا جا رہا ہے۔ آج کے دن پورے ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے، اور تمام جنگوں کے سابق فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

ویٹرانز ڈے منانے کی روایت 1918ء میں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے سے ہوئی تھی۔ اس سال یہ دن ایسے وقت پڑ رہا ہے جب عراق سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی میں دو مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، اور تقریباً ایک لاکھ امریکی فوجی اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

لاس انجیلیس کے نزدیک سانتا مونیکا کالج کے ایک کلاس روم میں، کچھ طالب علم نئے دوست بنانے اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہفتے میں ایک بار ملتے ہیں۔ یہ سب سابق فوجی ہیں، اور ان میں سے بعض کے لیے جنگ کی ہولناکیاں اب بھی تازہ ہیں۔

مونیکا اسکیٹس کہتی ہیں’’میں جب گھر واپس لوٹی، تو مجھے عام زندگی میں واپس آنے میں تین برس لگ گئے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں کہیں کھو گئی ہوں۔ ہمیں عام زندگی میں واپس آنے کی کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔‘‘

20 برس پہلے مونیکا اسکیٹس نے عراق کے خلاف خلیج کی پہلی جنگ میں خدمات انجام دی تھیں۔ جب وہ واپس لوٹیں تو انہیں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس کا عارضہ ہو چکا تھا جو ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان شدید پریشانی اور افسردگی محسوس کرتا ہے ۔ انھوں نے بتایا’’میری شادی ختم ہو گئی، میرا خاندان، میرا گھر سب برباد ہو گیا۔‘‘

بالآخراسکیٹس کا علاج ہوا اور وہ اچھی ہو گئیں۔ انھوں نے حال ہی میں کالج میں داخلہ لیا ہے ۔
سابق فوجی ڈینیئل اینڈرسن عراق اور افغانستان دونوں ملکوں میں خدمات انجام دے چکےہیں۔ وہ ہائی اسکول پاس کرنے کے کچھ ہی دن بعد فوج میں شامل ہو گئے تھے ۔ وہ کہتے ہیں’’میں نے اپنے آپ کو یہ الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر کالج میں میری کارکردگی اچھی نہ رہی، تو میں فوج میں چلا جاؤں گا۔‘‘

افغانستا ن کی جنگ کے ایک اور سابق فوجی کرسٹوفر بلنگم نے فوج میں اس لیے شمولیت اختیار کی تھی تا کہ انہیں تعلیم کی سہولتیں مل جائیں۔ انھوں نے بتایا’’میں کالج کے لیے کچھ پیسہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔‘‘

اگرچہ ان تینوں سابق فوجیوں کو جنگ میں حصہ لینے کا تجربہ ہوا تھا، لیکن مستقبل میں عراق اور افغانستان میں امریکہ کو کیا راہ اختیار کرنی چاہیئے، اس بارے میں ان کے خیالات ایک جیسے نہیں ہیں۔
اسکیٹس کہتی ہیں کہ امریکی فوجوں کے اس سال کے آخر میں عراق سے واپس نہیں نکلنا چاہیئے۔’’سچی بات یہ ہے کہ یہ بالکل وہی ہوگا جو ہم نے ویتنام میں کیا تھا ۔ ہمیں پہلے وہاں استحکام لانا چاہیئے ۔ وہاں ابھی کوئی مستحکم حکومت نہیں ہے ۔‘‘

اینڈرسن اس خیال سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتےہیں’’وقت آگیا ہے کہ ہم وہاں سے نکل آئیں، کیوں کہ میرے خیال میں اب وہ خود یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔‘‘

اینڈرسن کہتے ہیں کہ انہیں یقین نہیں کہ عراق کی جنگ پر جتنا پیسہ خرچ ہوا، اور جو جانی نقصان ہوا، اس کا کوئی فائدہ ہوا۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ صدام حسین کا تختہ الٹ دیا گیا ۔ وہاں کرپشن بہت زیادہ ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔ میرے خیال میں یہ جنگ سیاسی، اور دفاعی حکمت عملی کی بنیاد پر لڑی گئی۔ اس جنگ کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی۔‘‘

بلنگم کہتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان سے بھی نکل آنا چاہیئے۔’’وہاں ہماری موجودگی کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ہم نے وہاں کی معیشت میں اتنا پیسہ لگایا ہے کہ اب ہم ان کی پوری معیشت بن گئے ہیں۔ وہ سارا پیسہ ہم سے ہی بنا رہے ہیں۔ ہم جتنے زیادہ لمبے عرصے تک وہاں رہیں گے، انہیں اتنا ہی نقصان ہوگا۔‘‘

لیکن اینڈرسن کہتے ہیں کہ افغانستان کے لوگوں کو طالبان کے خلاف امریکہ کی مدد کی ضرورت ہے۔’’میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں پر اس خوفناک تنظیم نے واقعی بڑا ظلم کیا ہے ۔ میرے خیال میں ہمیں لڑائی میں ان کی مدد کرنی چاہیئے۔‘‘

تینوں سابق فوجی کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں امریکی پوری طرح یہ نہیں سمجھتے کہ عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیں کس مقصد کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ان کے خیال میں، اس کی ایک وجہ میڈیا کا رویہ ہے ۔ ڈینیئل اینڈرسن نے بتایا’’ٹیلیویژن پر مبصر اپنی اپنی رائے دیتے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘‘

یہ سابق فوجی، فوج میں اپنے تجربے کی بنیاد پر، اپنے مستقبل کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ مونیکا اسکیٹس ایسے سابق فوجیوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں جن کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے ۔ وہ کہتی ہیں’’میں ایسے سابق فوجیوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں جو مصیبت میں گرفتار ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ سڑکوں پر بے گھر پڑے نہ رہیں ۔‘‘

کرسٹوفر بلنگم دماغی بیماریوں پر جیسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس سنڈروم پر ریسرچ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’میں نے جب اپنے دوستوں کو PTSD جیسے دماغی عارضوں میں مبتلا ہوتے دیکھا، تو مجھے اس کے بارے میں تجسس اور تحقیق کی خواہش پیدا ہوئی ۔‘‘
اینڈرسن اسکرین رائٹر بننا چاہتے ہیں تا کہ انھوں نے جو کچھ دیکھا ہے، اسے دنیا تک پہنچا سکیں۔
جنگ میں انہیں جو تجربات ہوئے ان سے ان تینوں سابق فوجیوں کی زندگیاں بدل گئیں، اور انہیں امید ہے کہ انہیں زندگی کا جو تجر بہ حاصل ہوا ہے، اس کے ذریعے وہ ان لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر سکیں گے جن سے مستقبل میں ان کا سابقہ پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG