رسائی کے لنکس

وکی لیکس مقدمہ: ملزم فوجی کے خلاف ابتدائی سماعت مکمل


آرمی پرئیویٹ بریڈلے میننگ، درمیان میں، عدالت میں پیشی کے دوران

آرمی پرئیویٹ بریڈلے میننگ، درمیان میں، عدالت میں پیشی کے دوران

بریڈلے میننگ پر دشمن کی اعانت کرنے سمیت 22 مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں

وکی لیکس کو خفیہ فوجی دستاویزات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی فوجی کا کورٹ مارشل کرنے یا نہ کرنے کا تعین کرنے کے لیے ایک فوجی عدالت میں جاری سماعت مکمل ہوگئی ہے۔

امریکی فوج سے منسلک انٹیلی جنس تجزیہ کار بریڈلے میننگ کے خلاف امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے نواح میں واقع فوجی مرکز فورٹ میڈومیں جاری مقدمہ کی ابتدائی سماعت جمعرات کو مکمل ہوگئی۔

معاملہ کی سماعت کرنے والے پریزائڈنگ افسر لیفٹننٹ کرنل پال المانزا کے پاس میننگ کے مستقبل کا فیصلہ سنانے کے لیے 16 جنوری تک کا وقت ہے جس میں وہ یہ طے کریں گے کہ آیا ملزم کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جانا چاہیے یا نہیں۔

بریڈلے میننگ پر دشمن کی اعانت کرنے سمیت 22 مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے ماہرین نے بیانِ حلفی دیتے ہوئے پریزائڈنگ افسر کو بتایا تھا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ملزم نے خفیہ دستاویزات کو ڈاؤن لوڈ کرکے ڈسکس پہ محفوظ کیا تھا جنہیں بعد میں 'وکی لیکس' کو فراہم کیا گیا۔

سماعت کے دوران میننگ کے وکلاء نے اپنے موکل کو مشکل میں گھرا ایک ایسا شخص قرار دیا جسے ان کے بقول نومبر 2009ء سے مئی 2010ء تک عراق میں اس کی تعیناتی کے دوران خفیہ سرکاری دستاویزات تک رسائی نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

وکلائے صفائی نے خفیہ معلومات کے حامل کمپیوٹرز کے حفاظتی انتظامات کو بھی ناقص قرار دیتے ہوئے کاروائی کے دوران بیانِ حلفی دینے والے گواہوں کے حوالے سے کہا کہ فوجی ان کمپیوٹرز پر ویڈیو گیمز کھیلا کرتے تھے۔

میننگ پر الزام ہے کہ اس نے وہ خفیہ سرکاری دستاویزات 'وکی لیکس' کے حوالے کیں جن تک اسے بطورِ فوجی تجزیہ کار رسائی حاصل تھی۔ 'وکی لیکس' نے بعد ازاں جولائی 2010ء سے ان دستاویزات کی اشاعت شروع کردی تھی۔

واضح رہے کہ ملزم نے ابتدائی سماعت کے دوران اعترافِ جرم نہیں کیا ہے۔ اگر میننگ پر عائد الزامات ثابت ہوگئے تو اسے اپنی باقی پوری زندگی جیل میں گزارنا پڑسکتی ہے۔

میننگ کی فراہم کردہ سفارتی کیبلز اور دیگر خفیہ فوجی دستاویزات کے اجرا نے عالمی برادری میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کیوں کہ ان میں کئی عالمی رہنمائوں کی نجی اور عوامی زندگیوں کے متعلق امریکی اہلکاروں کے تلخ تبصرے بھی موجود تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 'وکی لیکس' کی جانب سے خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے نہ صرف لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑیں بلکہ امریکہ کی قومی سلامتی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کےساتھ اشتراکِ عمل کی امریکی کوششوں کو بھی دھچکا پہنچا۔

XS
SM
MD
LG