رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے حل کی تجاویز پر گفتگو کے لیے اس سالانہ اجلاس میں دنیا بھر سے تقریباً25 سو ماہرین، سائنس دان، سرکاری عہدے دار اور قانون ساز سٹاک ہوم میں جمع ہورہے ہیں

26 اگست سے پانی کا عالمی ہفتہ منایا جارہاہے۔ اس کامقصد دنیا کی توجہ پانی سے منسلک مسائل اور اس کے تحفظ پر مبذول کرانا ہے۔ اس ہفتے کا موضوع ہے پانی اور خوراک کی سیکیورٹی۔

دنیا بھر میں پانی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کے حل کی تجاویز پر گفتگو کے لیے اس سالانہ اجلاس میں دنیا بھر سے تقریباً25 سو ماہرین، سائنس دان، سرکاری عہدے دار اور قانون ساز سٹاک ہوم میں جمع ہورہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 2030تک عالمی سطح پر پانی کی طلب اس کی فراہمی کے مقابلے میں 40 فی صد بڑھ جائے گی۔

سٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل واٹر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر برگرن کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ حقیقتاً ہر شخص کی ضرورت کے لیے پانی موجود ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر پانی ضائع کردیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ ہم پانی کو بڑے پیمانے پر ضائع کرنے کی بری عادت میں مبتلا ہیں۔ ہم خوراک پیدا کرنے کے عمل میں بہت سا پانی ضائع کرتے ہیں ۔ اور دنیا بھر میں پیدا کی جانے والی لگ بھگ 50 صد خوراک صارفین تک ہی نہیں پہنچ پاتی۔ وہ یا تو کھیت میں ہی گل سڑ جاتی ہے یا پھر صارفین تک پہنچنے کے عمل میں ضائع ہوجاتی ہے۔

برگرن کہتے ہیں کہ ضائع ہوجانے والی خوراک کاہم پانی ضائع ہونے سے موازنہ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ہم جو کہ کھاتے ہیں ، اسے پیدا کرنے میں بہت سا پانی صرف کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق بہت سے ممالک میں خوراک کو ذخیرہ کرنے کی مناسب سہولتوں کی قلت ہے جس کے باعث بہت سی خوراک کھیتوں میں ہی ضائع ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ انفراسٹرکچر کی کمیابی بھی ہےجس کی وجہ سے خوراک محفوظ طورپر صارفین تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں بہت سا وہ پانی بھی ضائع ہوجاتا ہے جو گل سڑ اور ضائع ہوجانے والی خوراک پر صرف ہواتھا۔

برگرن کہتے ہیں صرف امریکہ اور مغربی یورپ میں ہر سال تین کھرب ڈالر کی خوراک صارفین کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی مقدار میں خوراک اور پانی کے ضائع ہوجانے کے باوجود اسے بچانے کے طریقے موجود ہیں۔

برگرن کہتے ہیں کہ کاروبارچلانے والوں سےورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ سروے سے ظاہر ہواہے کہ اب وہ خوراک اور پانی کے تحفظ اور اسے محفوظ کرنے کی اہمیت سے بخوبی آگا ہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پانی کا عالمی ہفتہ منانے کا ایک مقصد اس اہم مسئلے کے بارے میں عالمی شعور بیدار کرناہے۔
XS
SM
MD
LG