رسائی کے لنکس

خاتونِ اول مشیل اوباما نے کہا کہ ایوارڈ پانے والی خواتین اس لیے قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے دنیا کو اس کی موجودہ شکل میں تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا

خود کو لاحق خطرات اور راہ میں آنے والی مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوششیں کرنے والی دنیا کی 10 باہمت خواتین کو امریکی حکومت نے اعزازات سے نوازا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن اور امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے جمعرات کو دارالحکومت واشنگٹن میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو 2012ءکی ’باہمت خواتین کے بین الاقوامی تمغوں‘ سے نوازا.

باہمت خواتین کا بین الاقوامی ایوارڈ برائے 2012ء حاصل کرنے والی دس خواتین، اُن کے کارہائے نمایاں اور اُن کے ممالک یہ ہیں: مریم درانی، رکن صوبائی کونسل، قندھار، افغانستان؛ میجر پریسیلا ڈی اولیویرا ازیویڈو، پولیس اہل کار، برازیل؛ زِن مار آنگ، سیاسی کارکن، برما؛ جنیتھ بڈویا لیما، تجزیاتی صحافی، کولمبیا؛ حنا الحبشی، ماہر تعمیرات اور سیاسی کارکن، لیبیا؛ انیس احمد، جنس کی بنیاد پر تشدد کے خلاف جدوجہد کرنے والی کارکن اور سابق معاون وزیر برائے امورِ خواتین، مالدیپ؛ شاد بیگم، انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، پاکستان؛ ثمر بدوی، سیاسی کارکن، سعودی عرب؛ حوا عبداللہ محمد صالح، انسانی حقوق سے متعلق سرگرم کارکن، سوڈان؛ اور سفک پاوے، رکن پارلیمان، ترکی۔

مریم درانی

مریم درانی

اس موقع پر اپنے خطاب میں امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایوارڈ پانے والی تمام خواتین عورتوں اور لڑکیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ان تھک کوششیں کر رہی ہیں اور انہیں بعض اوقات اس راہ میں لعن و طعن اور قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی ہیں۔

خاتونِ اول مشیل اوباما نے کہا کہ ایوارڈ پانے والی خواتین اس لیے قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے دنیا کو اس کی موجودہ شکل میں تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

شاد بیگم

شاد بیگم

ایوارڈ پانے والوں میں لیبیا کی خاتون سیاسی کارکن حنا الحبشیاور کولمبیا کی تفتیشی صحافی جینتھ بدویا لیما بھی شامل ہیں ۔

ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کو بےنقاب کرنے پر لیما کو جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن وہ اس کے باوجود کولمبیا کی خواتین کو درپیش مسائل پر قلم اٹھاتی رہی ہیں۔

اس تقریب کے علاوہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی "خواتین کےعالمی دن" کے موقع پر تقاریب منعقد ہوئیں جسے منانے کا مقصد دنیا بھر میں حقوقِ نسواں کے حصول کی جانب ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرنا ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس دن کی مناسبت سے جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں اس پیش رفت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق اور آزادیاں دینے کے لیے دنیا کو ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔

ثمر

ثمر

بیان میں عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں مرد اور عورت کے درمیان موجود تفریق زیادہ گہری ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاشت کاروں یا بے زمین ہاریوں کے طور پر کام کرنے والی دنیا کی لگ بھگ نصف ارب خواتین کا شمار معاشی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے دنیا کے پسماندہ ترین طبقےمیں ہوتا ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ان خواتین کو مردوں کے برابر وسائل مہیا کردیے جائیں تو عالمی زرعی پیداوار میں چار فی صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی ادارے کے عہدیداروں کا یہ بھی کہناہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو وسائل تک مسادی رسائی دینے سے بھوک کے خلاف عالمی جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نیوی پیلے نے بھی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کی فلاح اور انہیں حقوق کی فراہمی کے لیے زیادہ اقدامات کریں۔

XS
SM
MD
LG