رسائی کے لنکس

شمالی امریکہ میں تیل کی پیداوار، عالمی منڈی میں تہلکہ


فائل

فائل

شمالی امریکہ میں تیل کی پیداوار میں آنے والی یہ تبدیلی اتنی بڑی ہے کہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال 2020میں امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک، سعودی عرب کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا

تیل کی پیداوار سے متعلق عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ میں تیل کی تیزی سے بڑہتی ہوئی پیداوار عالمی منڈی میں ایک تہلکہ مچا دے گی۔

پیرس میں قائم اِس ادارے نے منگل کے روز بتایا کہ شمالی امریکہ کی ریاست نارتھ ڈیکوٹا میں تیل کی اضافی پیداوار اور کینیڈا کے’آئل سینڈز‘ اگلے پانچ برسوں میں تیل کی عالمی منڈی میں اِسی طرح تبدیلی لائیں گے جس طرح چین میں گذشتہ 15 برسوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب سامنے آئی ہے۔

ادارے کی انتظامی سربراہ، ماریہ وین ڈر ہووین کا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ کی یہ پیش قدمی تیل کی عالمی منڈی میں تھرتھلی مچا دیگی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں شمالی امریکہ کا شمار مشرق وسطیٰ کے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) سے باہر تیل پیدا کرنے والے اُن ممالک میں ہوگا جو دنیا میں پیدا ہونے والے کُل تیل کا دو تہائی پیدا کرتے ہیں۔

’اوپیک‘ ممالک اِس وقت دنیا میں 35 فیصد تیل کی مصنوعات پیدا کر رہے ہیں۔

تیل کی پیداوار میں اضافے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید تکنیک شمالی امریکہ میں تیل کے اضافہ کا سبب بنی۔اِس تکنیک میں پانی کی تیز دھار اور دیگر عناصر کو پہاڑوں کے بیچ تیزی سے چھوڑا جاتا ہے، تاکہ پہاڑ سے تیل کے ذخائر کے مادوں کو کھدائی کے لیے نرم کیا جاسکے۔

شمالی امریکہ میں تیل کی پیداوار میں آنے والی یہ تبدیلی اتنی بڑی ہے کہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال سنہ 2020میں امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک، سعودی عرب کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔

تیل کی پیداوار کے عالمی ادارےکا کہنا ہے کہ شمالی امریکہ میں تیل کی یہ پیداوار شاید اگلے چند برس تک وہیں محدود رہے۔ لیکن، تیل نکالنے کا جدید طریقہ دیگر کمپنیوں کو یہ موقع دے سکتا ہے کہ وہ اُن مقامات سے تیل پیدا کرنے کی کوشش کریں جنہیں اب تک پُرخطر اور گراں سمجھ کر مسترد کر دیا گیا ہے۔

وین ڈر ہووین کا کہنا ہے کہ اِس صورتحال میں تیل کی عالمی منڈی کی جانب سے شدید ردِعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG