رسائی کے لنکس

امریکہ، کیوبا سفارتی تعلقات بحال


بدھ کے روز وائٹ ہاؤس سے خطاب میں، امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہوانا اور واشنگٹن ڈی سی میں سفارت خانے دوبارہ قائم ہوں گے۔۔۔ اور، وقت آگیا ہے کہ نوآبادیاتی اور کمیونسٹ نظریات کے ورثے کو ترک کرکے تعاون کی نئی روایات کو جنم دیا جائے

امریکہ اور کیوبا نے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس سے خطاب میں، امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہوانا اور واشنگٹن ڈی سی میں سفارت خانے دوبارہ قائم ہوں گے۔

اس سے قبل، کیوبا نے پانچ برس قبل قید کیے گئے امریکی شہری کو رہا کر دیا تھا، اور وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ کاسترو کی حکومت کے ساتھ 50 برس قبل معطل ہونے والے سفارتی تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کا امکان ہے۔ رہا کیے گئے امریکی، ایلن گروس امریکی کانگریس کے تین ارکان کے ہمراہ، طیارے کے ذریعے واشنگٹن پہنچے۔ پینسٹھ سالہ سابق امدادی کارکن کو اُسی وقت رہائی ملی جب امریکی جیلوں سے کیوبا کے تین قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

اپنی تقریر میں، صدر اوباما نے کہا کہ اُنھوں نے منگل کو کیوبا کے صدر راہول کاسترو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

صدر اوباما نے کیوبا سے متعلق نئی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ نوآبادیاتی اور کمیونسٹ نظریات پر مشتمل ترکے کو چھوڑ کر امن اور استحکام کے حصول کے لیے تعاون کا انداز اپنایا جائے۔

امریکی صدر نے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اور ’وسیع تر امن‘ کے لیے اِن اقدار کو تقویت دینا لازم ہے۔

دونوں ملکوں نے 1961ء میں کیوبا کے انقلاب کے بعد اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔

ایک ڈرامائی پیش رفت میں، ہوانا میں، صدر راہول کاسترو نے بھی، اُسی وقت، قوم سے خطاب کیا، جِس میں اُنھوں نے اِنہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور کیوبا اپنے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال کریں۔

صدر اوباما نے کہا کہ یہ بات دونوں ملکوں کے قومی مفاد میں ہے کہ باہمی تعلقات بحال کرتے ہوئے تعاون اور استحکام کی راہ اپنائی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہوانا اور میامی ایک دوسرے سے بہت دور نہیں؛ اور روایتی طور پر دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے سے خاصی قربت رکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG